آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرہ ارض کی سب سے چھوٹی ’چھپکلی‘ مڈغاسکر میں دریافت، ناپید ہونے کا خطرہ موجود
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ انھوں نے کرہ ارض پر سب سے چھوٹے رینگنے والے جانور کو دریافت کر لیا ہے جو کیمیلیون کی نسل سے ہے اور اس کا حجم صرف ایک بیج جتنا ہے۔
مڈغاسکر کی مہم پر جانے والی جرمنی اور مڈغاسکر کی مشترکہ ٹیم کو دو چھوٹے چھپکلی نما جانور ملے ہیں۔
اس نر بروکسیا نانا یا نانو کیمیلیون کے جسم کی لمبائی محض 13.5 ملی میٹر ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میونخ میں قائم بیویریئن سٹیٹ کولیکشن آف زویولوجی کے مطابق یہ اب تک چھپکلیوں کی دریافت شدہ 11,500 اقسام میں سب سے چھوٹی قسم ہے۔
سر سے لے کر دم تک اس کا حجم 22 ملی میٹر تک ہے جو 0.86 انچ بنتا ہے۔
تاہم اس کی مادہ کا حجم قدرے بڑا 29 ملی میٹر تک ہے۔ ادارے کے مطابق اگرچہ یہ دریافت ایک عظیم کوشش ہے تاہم اب بھی اس چھپکلی کی مزید آبادی کی تلاش باقی ہے۔
سائنٹیفک رپورٹ نامی جریدے کے مطابق یہ نئی کیمیلیون نسل شمال کے جنگلوں میں پائی جاتی ہے اور اس کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔
سینٹر آف نیچرل ہسٹری ہمبرگ کے ایک سائنسدان اولیور ہاؤلیشک کا کہنا ہے کہ نینو کیمیلیون کے ٹھکانے بدقسمتی سے جنگلات کی کٹائی کے باعث خطرات کا شکار ہیں تاہم ان علاقوں کو حال ہی میں تحفظ میں لے لیا گیا ہے تاکہ ان جانداروں کو بچایا جا سکے۔
محققین کے مطابق یہ چھپکلیاں برساتی جنگلوں میں زمین پر رینگنے والے چھوٹے حشرات کا شکار کرتی ہیں اور رات کے وقت حملہ آوروں سے بچنے کے لیے گھاس میں چھپ جاتی ہیں۔
اس دریافت میں شامل محققین میں سے ایک ڈاکٹر مارک شیرز نے اپنے ایک بلاگ میں لکھا کہ یہ کسی جاندار کے چھوٹے سے چھوٹے حجم کے حوالے سے ایک شاندار کیس ہے۔
وہ جنگلات جہاں بروکسیا واقع ہے اب بھی اس جزیرے کے شمال میں موجود دیگر جنگلات سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا اس لیے کیمیلیون کی یہ نئی قسم کسی بھی چھوٹے جزیرے پر پائے جانے والی جانداروں کی چھوٹی ترین اقسام کے نمونوں کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے حجم کے چھوٹے رہ جانے میں کوئی اور چیز بھی کار فرما ہے۔
سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں تجویز کیا ہے کہ کیمیلیون ناپید ہونے کے خطرے کا شکار ہے اور اس لیے اس کے ٹھکانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مدد کی جانی چاہیے۔