آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کووڈ ویکسین: پہلی ’سنگ میل‘ ویکسین 90 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے
- مصنف, جیمز گلیگر
- عہدہ, ہیلتھ اور سائنس کے نامہ نگار
کورونا وائرس کے خلاف ایک ایسی موثر ویکسین تیار کر لی گئی ہے جس کے ابتدائی تجرباتی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ وہ نوے فیصد لوگوں کو کووڈ کی لپیٹ میں آنے سے بچا سکتی ہے۔
ادویات ساز بین الاقوامی کمپنیوں فائزر اور بائوٹیک جنھوں نے یہ ویکسین مشترکہ طور پر تیار کی ہے ان کا کہنا ہے کہ 'یہ انسانیت اور سائنس کے لیے ایک بہت بڑا دن ہے۔'
اس ویکسین کو تجرباتی سطح پر چھ ملکوں میں 43500 لوگوں کو لگایا گیا اور اس کے بارے میں اب تک کوئی خدشہ یا کوئی شکایت سامنے نہیں آئی ہے۔
ان کمپنیوں کا ارادہ ہے کہ وہ اس ویکسین کی منظوری ہنگامی بنیادوں پر حاصل کریں تاکہ اس ماہ کے آخری تک اس کا استعمال شروع کیا جا سکے۔
دنیا بھر میں عام لوگوں کی زندگیوں پر اس بیماری کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں سے بہتر علاج اور اس ویکسین کے استعمال سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
ایک درجن سے زیادہ ویکسینوں پر کام ہو رہا ہے جو کہ تجربات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں ہیں لیکن یہ پہلی ویکسین ہے جس کے نتائج سامنے آئے ہیں۔
اس ویکسین کی تیاری میں جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اس میں وائرس کے جنیاتی کوڈ کو خون میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ انسانی جسم کے مدافعاتی نظام کو اس سے نمٹنے کے لیے تربیت دی جا سکے۔
مزید پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلے تجربات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ویکسین جسم کو اینٹی باڈیز تیار کرنے میں مدد کرتی ہے اور مدافعتی نظام کا ایک اور حصہ جسے ٹی سیل کہا جاتا ہے وہ کورونا وائرس کو ختم کرتا ہے۔
تین ہفتوں کے وقفے سے اس ویکسین کی دو خوراکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تجرباتی مرحلے میں امریکہ، جرمنی، برازیل، ارجنٹینا، جنوبی افریقہ اور ترکی میں اس کے استعمال سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اس ویکسین کی دوسری خوراک کے سات دن بعد نوے فیصد لوگوں کو اس وائرس سے محفوظ کر لیا گیا۔
فائزر کو یقین ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک پانچ کروڑ خوراکیں تیار کر سکتی ہے اور سنہ 2021 کے اختتام تک ایک ارب تیس کروڑ خوارکیں دستیاب کر دے گی۔
تاہم اس ویکسین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں کیونکہ اس ویکسین کو انتہائی کم درجہ حرارت یعنی منفی 80 سینٹی گریڈ پر رکھا جانا ضروری ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور سوال کا جواب تلاش کرنا ابھی باقی ہے کہ اس ویکسین کا اثر کتنے عرصے تک رہتا ہے اور اس کو بنانے والی کمپنیوں نے مختلف عمر کے افراد میں اس کے موثر ہونے کے بارے میں بھی کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے ہیں۔
فائزر کمپنی کے چیئرمین ڈاکٹر ایلبرٹ بورلا کا کہنا ہے کہ 'وہ بڑی حد تک اس ہدف کو حاصل کرنے کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگوں کو ایسی دریافت فراہم کر دی جائے جس سے صحت کے اس عالمی بحران پر قابو پانے میں مل سکے۔
بائیو ٹیک کمپنی کے شریک بانی پروفیسر اوگر ساہن نے ان نتائج کو ایک سنگ میل سے تعبیر کیا۔ یہ ڈیٹا جو اب تک حاصل ہوا ہے وہ حتمی تجزیہ نہیں ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نومبر کے آخری ہفتے تک تفصیلی نتائج سامنے آ جائیں گے جن کی بنیاد پر وہ ویکسین کو منظوری کے لیے متعلقہ حکام کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔
اس وقت تک مختلف ممالک ویکسین کے استعمال کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔ برطانیہ نے پہلے ہی چار کروڑ خواراکوں کا آڈر کر دیا ہے جو کہ دو کروڑ افراد کے لیے کافی ہوں گی۔