سونے کی کان کنی: زمین سے سونا نکالنا مشکل سے مشکل تر کیوں ہوتا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک ہزار دن تک قافلہ بینرز اور پلے کارڈز لے کر کھڑا رہا۔ بینرز پر لکھا تھا ’ہم خوفزدہ نہیں ہیں، یہ ہماری زمین ہے، یہ ہمارا گھر ہے، ہم اس کے لیے مریں گے۔‘ آئرلینڈ کے پرچم ہوا کے دوش پر لہرا رہے تھے۔ یہ منظر اس مقام کا ہے جہاں شمالی آئرلینڈ کی کاؤنٹی ٹائرون کے مقامی افراد سونے کی کان کنی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
چار سو ساٹھ ملین برس پرانی زیرِ زمین گہری چٹانوں میں سونے کی جابجا بکھری ہوئی تاریں، کوہ سپیررن کے دور دراز علاقے کریگینالٹ میں کانکنی کے امکان کو ظاہر کر رہی تھیں۔ اس حوالے سے کئی عشروں سے مذاکرات جاری تھے لیکن ابھی تک اس بات نے حقیقی شکل اختیار نہیں کی تھی۔
کانکنی کی ایک کمپنی کی طرف سے اس قیمتی دھات کے ٹکڑے نکالنے کی حالیہ درخواست کے بعد یہ امکان کچھ قریب آ گیا ہے۔اگر اس میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو کمپنی کے مطابق یہاں پر بننے والی کان علاقے کے لیے نئی ملازمتیں اور پیسہ لا سکتی ہے۔
لیکن بہت سے لوگ جو جیسا ہے ویسا ہی رہنے دینا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممکنہ کانکنی کے مقامی قدرتی ماحول پر مضر اثرات سے متفکر ریٹائرڈ سوشل ورکر اور لیکچرر فیڈلما اوکین کے بقول ’میں نے اپنی پوری زندگی اس مہم کے لیے وقف کر دی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ بات ہمارے مستقبل کی ہے۔‘
فیڈلما اوکین کہتی ہیں کہ ’میری بڑی پریشانی یہ ہے کہ یہاں کا پانی زیریلا ہو جائے گا، ہوا زہریلی ہو جائے گی، زمین آلودہ ہو جائے گی اور آخر کار لوگوں کی صحت خراب ہو جائے گی۔' اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے علاقے میں کسی قسم کی کان کو قبول نہیں کریں گی۔
ڈالریڈئین گولڈ نامی جو کمپنی یہاں سے قیمتی دھاتیں نکالنا چاہتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اس مقام پر قدرتی ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت سی منصوبہ بندی کر رکھی۔ کمپنی کا وعدہ ہے کہ یہاں کان کنی سے مقامی لوگوں کو بہت سے معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں پر کان کی کھدائی کے خلاف انٹرنیٹ پر چلائی جانے والی مہم میں ہزاروں لوگ اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی رائے اس منصوبے کے حق میں نہیں ہے۔ اب اس معاملے میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا جائے گا جس میں دیکھا جائے گا کہ اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ماہرین کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ اس شمالی آئر لینڈ کی قسمت بدل سکتا ہے جہاں تیس برس تک سرمایہ کاری کے مواقع ختم ہو گئے تھے۔ ان کے خیال میں اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو یہ برطانیہ میں سونے کی سب سے بڑی کان ہو گی۔
اسی لیے ایک سوال جو آج کل سپیرن کے پہاڑوں پر چکر لگا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا چیز زیادہ اہم ہے۔ سونے کو زمین میں ہی دفن رہنے دیا جائے یا اسے نکالا جائے؟
اس سوال کے لیے اِس سے بہتر وقت شاید ہو نہیں سکتا تھا۔ کورونا کی وبا کے دوران دنیا میں سونے کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اس سے نہ صرف سونے کی تلاش کے لیے دنیا میں کئی مقامات پر کھدائی میں دلچسپی میں ایک نیا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، بلکہ ایمازون کے جنگلات میں تو غیر قانونی کانکنی شروع ہو چکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود زمین سے سونا نکالنا زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس حوالے سے تکنیکی مسائل کا علم سب کو ہو، لیکن اس کی پیشنگوئی ہر کوئی نہیں کر سکتا کہ ماحول دوست تنظیموں کی طرف سے احتجاج ہوگا یا نہیں اور مقامی سیاست اس قسم کے منصوبے پر کیسے اثر انداز ہو گی۔ لیکن کیا یہ نکتہ اتنا اہم ہے کہ اس کی وجہ سے سونا نکالنے کی کوشش ہی ترک کر دی جائے؟
سونے کی صنعت کی ایک ترجمان عالمی تنظیم، ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق پچھلے سال، گذشتہ دس برسوں میں پہلی مرتبہ دنیا میں سونے کی پیداوار میں ایک فیصد کمی ہوئی۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہم ’پِیک گولڈ‘ یا سونے کی چوٹی تک پہنچ چکے ہیں، یعنی ہم زمین سے جتنا سونا نکال سکتے تھے ہم اس کی بلند ترین شرح تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کے بعد نئے سونے کی شرح مسلسل گرتی رہے گی اور پھر آخر کار زمین میں موجود سونا ختم ہو جائے گا۔
لیکن ہمیں سونے کی مانگ میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔
کاروباری دنیا میں منصفانہ مقابلہ بازی کے لیے کوشان تنظیم سی ایف آر اے ریسرچ کے نائب صدر میٹ مِلر کہتے ہیں کہ سونے کی منڈیوں میں ایک طوفان کی سی کیفیت ہے۔ یا ’ہم بہتر انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ سونے کی بارے میں بنیادی حقائق جتنے واضح آج ہیں، پہلے کبھی نہ تھے۔‘
تنظیم کے مطابق اس سونے کو چھوڑ کر جو ابھی تک زمین میں دفن ہے، دنیا میں موجود سونے کا نصف زیورات میں استعمال ہوتا ہے۔ باقی کے نصف میں سے ایک چوتھائی مرکزی بینکوں کے پاس ہے جبکہ آخری چوتھائی حصہ نجی سرمایہ کاروں کے ہاتھ میں ہے یا صنعتی دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔
مِلر کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہم پِیک گولڈ تک پہنچ چکے ہیں۔ اِس موسم گرما میں اس چمکدار زرد دھات کی قیمت دو ہزار ڈالر فی اونس سے اوپر نکل گئی تھی اور اب انیس سو ڈالر فی اونس پر رکی ہوئی ہے۔ بیس برس پہلے ایک اونس سونا موجودہ قیمت کے ایک چوتھائی سے بھی کم پر فروخت ہو رہا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا میں تیزی کے بعد، سونے کی قیمت میں تازہ ترین اضافے کی وجہ کرنسیوں کی قدر میں کمی بتائی جاتی ہے، جن میں امریکی ڈالر بھی شامل ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کئی حکومتیں وبا سے نمٹنے کے لیے بڑے بڑے قرضے اٹھا رہی ہیں اور خلا کو پُر کرنے کے لیے نوٹ چھاپ رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ کرنسی کی قدر مزید غیر مستحکم ہو گئی ہے۔ دوسری طرف، سونے کو ایک مستحکم اثاثہ سمجھا جاتا ہے، اور چونکہ دنیا میں سونے کی مقدار محدود ہے، اس لیے سرمایہ کار اِسے قابلِ بھروسہ سمجھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
لیکن کووڈ 19 نے خود سونے کی کان کنی کو تلپٹ کر دیا ہے اور لگتا ہے کہ سونے کی مانگ کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ رسد بحال نہیں ہو سکے گی۔ مِلر کہتے ہیں کہ حقیقت میں سونے کی کان کنی ایک ’بڑے بحران' کے دہانے پر کھڑی ہے۔
’میرا خیال ہے کہ سونے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ زیادہ سے زیادہ سونا ری سائیکل یا دوبارہ استعمال میں لایا جاتا رہے گا، جس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ سونا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں جا رہا ہے۔'
مِلر کی پیشنگوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں سونے کا ایک بڑا ماخذ یہ ہوگا کہ پرانے زیورات، سِکّے، حتیٰ کہ الیکٹرانک آلات کے سرکٹ بورڈز میں لگی ہوئی سونے کی مہین مقدار کو توڑ کر سونے کی نئی چیزیں بنائی جائیں گی، یعنی سونا بڑے پیمانے پر ری سائیکل ہوتا رہے گا۔
سی ایف آر اے کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ بیس برسوں میں دنیا میں سونے کی رسد کا 30 فیصد پرانے سونے کو پگھلا کر پورا کیا گیا تھا، نہ کہ کان کنی کے ذریعے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ وہ ریفائنریز جو زیورات، سِکّوں اور اینٹوں کی شکل میں موجود ’سکریپ یا کچرہ' سونے کو دوبارہ قابلِ استعمال بناتی ہیں، ان میں زہریلا کیمائی مادہ اور بجلی، گیس وغیرہ استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اس عمل میں قدرتی ماحول پر جو برے اثرات مرتب ہوتے ہیں، ہو سکتا ہے وہ ان مضر اثرات سے کم ہوں جو کانکنی سے ہوتے ہیں۔
جرمنی میں سونے کی ریفائنریز پر ایک حالیہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اگر ایک 99 اعشاریہ 99 فیصد خالص سونا ریسائیکلنگ کے ذریعہ بنایا جاتا ہے تو اس میں کان کنی سے نکالے جانے والے سونے کے ایک کلوگرام کے مقابلے میں تین سو گنا کم کاربن خارج ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ری سائیکلنگ سے ایک کلوگرام بنانے میں 53 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے، جبکہ کان سے ایک کلوگرام سونا حاصل کرنے کے عمل میں 16 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے۔ الیکٹرانک آلات سے سونا حاصل کرنے کی صورت میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ان دونوں کے درمیان ہوتی ہے، اور یہ عمل بھی ماحول کے لیے کان کنی سے بہرحال کم نقصان دہ ہوتا ہے۔
بڑے پیمانے پر کیے جانے والے کسی بھی دوسرے صنعتی عمل کی طرح، زمین سے سونا نکالنے سے مقامی قدرتی ماحول پر اثرات پڑ سکتے ہیں۔ مِلر کہتے ہیں کہ دنیا کے کچھ علاقوں میں سونے کی کانکنی کے خلاف مقامی لوگوں کی مزاحمت، سونے کی پیداوار میں ایک رکاوٹ بن گئی ہے۔ اس قسم کی مزاحمت ٹائرون تک محدود نہیں۔ آپ چِلی میں پاسکوؤا لاما کی مثال لے لیں۔ وہاں مقامی سماجی کارکنوں کے ماحولیات کے حوالے سے برسوں کے احتجاج کے بعد، نگران اداروں کو اس منصوبے کو روکنا پڑ گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم جن مقامات پر اب سونے کی کانیں قائم ہو چکی ہیں، وہاں اس کام کو بڑے پیمانے پر پھیلایا جا سکتا ہے۔ امریکہ کی نواڈا گولڈ مائین دنیا میں سونے کی سب سے بڑی کان ہے جو سالانہ کئی ٹن سونا پیدا کرتی ہے۔ اس کان سے سالانہ ایک سو ٹن سے زیادہ سونا نکالا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ دنیا میں سونے کی چھوٹی چھوٹی کانیں بھی مقامی لوگوں کی گزر اوقات میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
اس حوالے سے آپ کینیڈا کے کیوبیک کے علاقے میں واقع „سونے کی وادی' کی مثال لے لیں۔ وہاں اُس وقت سے ایک بڑا قصبہ موجود ہے جب 1923 میں وہاں سے سونا نکلنا شروع ہوا تھا۔ اس علاقے سے اب پیتل اور سیسے سمیت کئی دوسری دھاتیں بھی نکالی جا رہی ہیں اور کانکنی کے شعبے میں روزگار میں اضافے کے بعد یہاں بہت سے لوگوں کو ملازمتوں کے مواقع مل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سیاسی رکاوٹیں
جہاں تک شمالی آئرلینڈ کے کرنگینالٹ کے علاقے میں ممکنہ کان کا تعلق ہے تو یہاں اتنے برسوں تک سونا زمین میں دبے رہنے کی وجہ خون خرابا ہے۔ ’ٹربلز‘ یا ’مصیبتوں‘ کے دور میں شمالی آئرلینڈ میں بہت سے سیاسی اور لسانی گروہوں نے تشدد کا راستہ چن لیا تھا اور اس دوران یہاں گولیاں چل رہی تھیں یا بم پھٹ رہے تھے۔ اسی لیے جب مذکورہ کمپنی کی نظر سنہ 1980 کے عشرے میں یہاں ممکنہ سونے پر پڑی تو اسے کان کھودنے کے لیے درکار دھماکہ خیز مواد لینے کے لیے اجازت نامہ لینے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن ایک دہائی بعد لوگوں کو لگا کہ مستقبل میں کرنگینالٹ سے سونا نکالنا ممکن ہو جائے گا۔ جب اپریل سنہ 1988 میں گڈ فرائیڈے کے تاریخی معاہدے کا وقت آیا تو جیالوجی کے پروفیسر ایڈریئن بوئس اور ان کے ساتھیوں نے یہاں کی زمین کا مطالعہ کیا۔
پروفیسر بوئس کے بقول ’یہ واقعی شمالی آئرلینڈ کے لوگوں کے لیے امید کی کرن تھی اور میں نے لوگوں پر اس کے اثرات دیکھے تھے۔ یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب بہت سے لوگ شمالی آئرلینڈ میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy
پروفیسر بوئس کا کہنا ہے کہ پھر سنہ 1990 کے عشرے میں یہ سونے کی قیمت ہی تھی جس نے اس علاقے میں کان کے امکانات کا راستہ روک دیا تھا۔ لیکن اب تو ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
’اگر آپ سونے کی کانوں کی بات کریں تو کرنگینالٹ برطانیہ کی سب سے بڑی کان ہو سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں باقی تمام کانیں بہت چھوٹی ہیں۔‘
لیکن اس کے باوجود ہمیں کرنگینالٹ کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ سنہ 2020 میں صنعتی پیمانے پر سونے کی کانکنی کو کن مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر جب آپ اسے قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ یہاں پر آباد لوگوں کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ کان شمالی آئرلینڈ کے خاصے دور دراز علاقے میں واقع ہے اور اس کے گرد و نواح میں کھیت یا ویران زمین ہے۔ اور اس کے قریب اوماگ نامی قصبے میں بیس ہزار لوگ آباد ہیں۔
ڈالریڈیئن نام کپمنی سنہ 2009 سے یہاں نہ صرف لوگوں کو کان کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ زمین سے نکالے ہوئے نمونے بھی جمع کر رہی ہے۔ منصوبے میں یہاں ایک زیر زمین کان کی تعمیر شامل ہے جس کے تحت یہاں سے نکالی جانے والی دھاتوں میں سے آدھی کی کشید زیرِ زمین کی جائے گی اور باقی نصف کی بیرونِ ملک لیجا کر۔
شدید مخالفت کے بعد 2019 میں ڈالریڈیئن نے کان والی جگہ پر سایانائیڈ استعمال کرنے کا ارداہ ترک کر دیا۔ یاد رہے کہ سونے کی کچھ کانوں میں زمین سے نکلنے والے دھاتوں کے مرکب سے سونے کو الگ کرنے کے لیے سایانائیڈ استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے پانی کے استعمال میں 30 فیصد اور مضر گیسوں کے اخراج کے میں 25 فیصد کمی کا بھی منصوبہ بنا لیا تھا۔
لیکن ماحولیاتی تحفظ کے کارکن اپنے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ کان سے نکلنے والا کیمیائی مادہ قریبی دریاؤں کو آلودہ کر سکتا ہے جس سے مقامی جنگلی حیات کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کان سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے مقامی لوگوں کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاہ کارکنوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ کان سے نکالے جانے والے کچرے کے ڈھیروں سے قدرتی حسن بھی خراب ہو جائے گا۔
بی بی سی نے ڈالریڈیئن کی ممکنہ کان والی جگہ کا دورہ کرنے کا انتظام بھی کر لیا تھا لیکن مقررہ دن سے دو روز پہلے کمپنی نے کوئی وجہ بتائے بغیر پروگرام منسوخ کر دیا۔
ایک بیان میں کمپنی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک محفوظ اور ماحول کے لحاظ سے ذمہ دارانہ منصوبہ ہے جس کی نقل یورپ کی دوسری جدید کانیں بھی کریں گی۔‘
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے مقامی لوگوں کی باتیں سنی ہیں، انہیں کان کے مقام کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی اور جب خدشات کا اظہار کیا گیا تو کمپنی نے کان کنی کے طریقہ کار میں تبدیلی بھی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
اس کے علاوہ کمپنی نے حال ہی میں بھاری دھاتوں سمیت کان سے خارج ہونے والے دیگر مواد کو ایک قریبی نہر میں پھینکے کی اجازت کے لیے درخواست دی تو اس نے ان میں سلفیورک ایسڈ اور سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کا ذکر بھی کیا۔ اس موقع پر ترجمان نے کہا کہ ’اگرچہ ہمیں امید ہے کہ یہ چیزیں معمول میں استعمال نہیں ہوں گی، لیکن چونکہ یہ چیزیں کان والی جگہ پر رکھی جائیں گی، اس لیے درخواست میں ان کا ذکر ضروری تھا۔'
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پانی کو صاف کرنے کے لیے ایک ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی لگایا جائے گا۔ ترجمان کے بقول ایک ایسے وقت میں جب بریگزٹ کی وجہ سے شمالی آئرلینڈ کی معیشت کو غیر یقینی کا سامنا ہے، ایسے میں یہ کان معیشت کے لیے ’ایک بڑا موقع' فراہم کرتی ہے۔
جہاں اوکین جیسے کارکن کہتے ہیں کہ وہ کسی صورت میں کان کی اجازت نہیں دیں گے، یقیناً کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کمپنی کی بات مان جائیں گے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ٹائرون میں کتنے لوگ اس کے حق میں ہیں اور کتنے مخالف۔ شمالی آئر لینڈ کے متعلقہ محکمے کی ویب سائیٹ پر لوگوں کی طرف سے دی گئی 41 ہزار آراء موجود ہیں، جن میں سے 90 فیصد سے زیادہ اعتراضات پر مبنی ہیں۔
جب بی بی سی نے محکمے سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے کہ کئی آرا ایک ہی جیسی کیوں دکھائی دیتی ہیں، تو محکمے کا کہنا تھا کہ انہیں جو جوابات موصول ہوئے، یہ ان کی درست عکاسی ہے۔
محکمے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک ہی جیسی رائے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ایک ہی شخص نے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی رائے بھیجی ہو کیونکہ اس منصوبے میں کئی مرتبہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
اب جبکہ اس منصوبے کی عوامی سطح پر انکوائری کا وقت قریب آ رہا ہے، یہ کام حکام کا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرنے سے پہلے مقامی لوگوں کی درست نمائندی کریں کہ آیا اس منصوبے پر کام آگے بڑھے گا یا نہیں۔' اس حوالے سے بوئس کہتے ہیں کہ ’اب سیاستدانوں کو وہ کام کرنے دیں جس کی سیاستدانوں کو تنخواہ دی جاتی ہے۔'
حالیہ برسوں میں آئرلینڈ میں ایک نیشنل پارک میں ایک دوسری کان کے حوالے سے بھی لوگوں نے اپنے اعتراضات کا اظہار کیا تھا۔ بوئس بتاتے ہیں کہ وہاں پر بھی ماحول پر مضر اثرات کے حوالے سے اعتراضات کیے گئے تھے، لیکن آخر کار منصوبے کو حمایت حاصل ہو گئی اور اس کی منصوبہ بندی کی اجازت دے دی گئی۔ ہو سکتا ہے اس کان سے پہلا سونا رواں ماہ نکلنا شروع ہو جائے۔
سونے کے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے والے ایک فنڈ سے منسلک تجزیہ کار، کرس مینسینی کا خیال ہے کہ اگر کرنگینالٹ والی کان منافع بخش ثابت ہوتی ہے تو یہ سرمایہ کاروں کو یقیناً اپنی جانب کھینچے گی۔ ان کا خیال ہے کہ یہ کان ماحولیات کے لحاظ سے ایک محفوظ کان ہو گی۔
لیکن یہ بات ہر کوئی مانتا۔ فیڈلما اوکین اور ان کے ساتھی کارکنوں کے لیے یہ کان ایک لعنت بن چکی ہے جو اس علاقے کی شناخت اور قدرتی حسن کے لیے ایک خطرہ بن گئی ہے جہاں یہ لوگ رہتے ہیں۔
فیڈلما کا اصرار ہے کہ ’یہ علاقہ ایک خوبصورت علاقہ ہے، اسے غیر معمولی قدرتی حسن سے مالا مال علاقہ قرار دیا جا چکا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہاں اتنی بڑی صنعت قائم ہو۔'
’ہمارے علاقے کی صاف اور سرسبز شناخت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔‘
قطع نظر اس بات کے کہ کرنگینالٹ میں آگے چل کر کیا ہوتا ہے، لیکن ڈالریڈیئن کی کوششوں نے اس حوالے سے کئی مباحث کو جنم دیا ہے کہ مقامی لوگ کیا قبول کرنے کو تیار ہوں گے اور کیا نہیں۔ اگر سونا اتنا ہی مہنگا رہتا ہے اور کمپنیاں ایسے مقامات پر کھدائی کے منصوبے بناتی رہتی ہیں جہاں سونے کی کانوں کا کوئی رواج نہیں، تو اس قسم کی بحثیں مزید عام ہو جائیں گی۔
لیکن اگر ہم واقعی پیداوار کے لحاظ سے سونے کی چوٹی پر پہنچ چکے ہیں تو ہو سکتا ہے سونے کی تلاش میں جاری بھاگ دوڑ زیادہ عرصے تک چلے ہیں نہ!













