ناسا کے خلا بازوں کی سمندر میں کامیابی کے ساتھ تاریخی لینڈنگ

دو امریکی خلا باز ڈگ ہرلے اور بوب بیہنکن کامیابی کے ساتھ زمین پر پہنچ گئے ہیں جب ان کا ڈریگن کیپسول انٹرنیشنل سپیس سٹیشن سے جدا ہو کر زمین کی طرف روانہ ہوا اور عالمی وقت (جی ایم ٹی) کے مطابق شام تقریباً سات بجے امریکی شہر فلوریڈا کے نزدیک خلیجِ میکسیکو میں اتر گیا۔

یہ 45 سال میں پہلا موقع ہے جب کوئی امریکی خلائی عملے نے پانی میں لینڈ کیا ہو۔

ڈگ ہرلے نے پہنچنے کے بعد کہا کہ یہ ان کے لیے بہت عزت کی بات ہے کہ انھیں اس مشن پر جانے کا موقع ملا۔

ڈگ ہرلے کے پیغام پر سپیس ایکس کے کنٹرول ٹاور نے انھیں خوش آمدید کہا اور پیغام دیا کہ 'سپیس ایکس اڑانے کا بہت شکریہ۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنھوں نے دو ماہ قبل اس راکٹ کا خلا میں بھیجے جانے کی تقریب میں شرکت کی تھی، نے بھی اپنی ٹویٹ میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس کامیاب لینڈنگ کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کے پاس ایک مرتبہ پھر سے اپنے خلابازوں کو خلا میں لے جانے اور واپس آنے کا قابلِ استعمال ذریعہ موجود ہے۔

یاد رہے کہ یہ صلاحیت ملک کے پاس اس وقت نہیں رہی تھی جب اس نے سنہ 2011 میں اپنی شٹلز کو ریٹائر کر دیا تھا۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا اور اس کے کمرشل شراکت دار سپیس ایکس نے ایک ’سپلیش ڈاؤن‘ یا لینڈنگ کی ایک ایسی جگہ کا تعین کیا ہے جو سمندری طوفان ایسایئس سے خاصی دور ہے۔ یہ سمندری طوفان فلوریڈا کے مشرقی ساحل سے ٹکرائے گا۔

کیپسول کے لینڈ کرنے کا طریقہ

ان خلابازوں کو باحفاظت ساحل تک پہنچانے والے بحری جہازوں کو خلیجِ میکسیکو کی جانب بھیج دیا گیا تھا جو مغربی فلوریڈا کی جانب پینساکولا کی جانب ہے۔

ہرلے اور بینکہن کے کیپسول کی واپسی انتہائی تیز رفتار سے ہوئی یہ رفتار آغاز میں کئی کلومیٹر فی سیکنڈ تھی۔

ماہرین کے مطابق اس کے باعث کیپسول کم از کم دو ہزار سینٹی گریڈ تک گرم ہو جائے گا جیسے جیسے یہ فضا میں نیچے کی طرف آنا شروع کرے گا۔

اس دوران جب کیپسول زمین سے 5500 میٹر کے فاصلے پر ہو گا تو ڈروگ نظام کے تحت دو پیراشوٹ کھلیں گے۔ اس دوران کیپسول اپنا سفر 560 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جاری رکھے گا۔

اس کے بعد 1800 میٹر کی بلندی پر چار مزید پیراشوٹ کھلیں گے جو کیپسول کی سمندر پر آہستہ سے لینڈنگ یقینی بنائیں گے۔

جیسے عام طور فضا میں واپسی کے دوران ہوتا ہے کچھ منٹ کے لیے ریڈیو سائلینس ہو گا کیونکہ گرم گیسز کچھ دیر کے لیے کیپسول کو گھیر لیں گی۔

45 برس قبل ایک اپولو خلاگاڑی نے بحرالکاہل میں لینڈ کیا تھا۔

ڈگ ہرلے نے کہا کہ انھوں نے ان دنوں کی چند رپورٹس میں پڑھا کہ اس وقت خلابازوں کی پانی کے اوپر تیرتے وقت طبیعت خراب ہوئی تھی جس کے بعد انھیں بحفاظت وہاں سے لے جایا گیا تھا۔

انھوں نے جمعے کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہمارے پاس لفافے موجود ہیں۔

ہمارے پاس تولیے بھی ہیں جو اس وقت میں کام آ سکتے ہیں۔ اگر یہ ہونا ہی ہے تو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو گا۔ جو افراد خلا میں سفر کر چکے ہیں انھیں معلوم ہے کہ کبھی کبھار اوپر جاتے ہوئے اور بعض اوقات نیچے آتے وقت آپ کے جسم کے نظام پر اثر پڑتا ہے۔

خیال رہے کہ خلابازوں نے مئی کے اختتام پر بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لیے سفر کا آغاز کیا۔ انھوں نے آغاز میں سپیس ایکس کے فیلکن نائن راکٹ کے ذریعے فضا میں بلندی کے سفر کی شروعات کیں اور اس طرح امریکہ میں خلابازی کے ایک نئے دور کا بھی آغاز ہوا۔

اس سے قبل ناسا نے فیصلہ کیا تھا کہ اب وہ خود عملے کو خلاء میں لے جانے والے راکٹ کی بعض مشینیں اور ہارڈ وئیر نہ خود بنائے گا نہ ان کو خود چلائے گا بلکہ وہ کہ کام کمرشل کمپنیوں کو دے دے گا۔

کلیفورنیا کی اسپیس ایکس کمپنی پہلی کمپنی ہوگی جو ناسا کو یہ سازوسامان فراہم کرے گی

اس کمپنی کے بنائے ہوئے زیادہ تر ہارڈوئیر جس میں فیلکن راکٹ کی بعض مشینیں بھی شامل ہیں ان کو دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

’ہم نے بنیادی طور پر راکٹ کے ' پے لوڈ' اور اس کی حفاظت کے اعلی معیار قائم کردیے ہیں۔ تاہم ہم تمام مراحل کی ڈیزاننگ میں شامل نہیں ہوتے ہیں تھے۔ ہم نے نجی کمپنیوں کو نئے ڈیزان بنانے کی مکمل آزادی دی ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم اس نہج پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہم اب ان راکٹوں اور کیپسول کا دوبارہ استعمال کررہے ہیں اور اب ہم یہی کام چاند اور بالآخر مریخ کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔‘

بوئنگ کمپنی بھی خلائی اسٹیشن کے لئے ایک "ٹیکسی سروس" بنارہی ہے۔

لیکن کمپنی اس کےکو سٹارلائنر کیپسول ميں بعض سافٹ وئیر میں دشواریوں کے بعد اس کے تعارف کو معخر کرنا پڑا .

ناسا کی یہ کوشش ہوگی کہ ان کیپسولس کی صاف ستھرائی اور ان کو درکار جدت فراہم کیے جانے کے بعد انہیں آئندہ برس کی شروعات میں راکٹ میں نصب کیا جاسکے۔

خلا باز ڈگ ہرلے اور بوب بینکن اس یادگاری امریکی پرچم کو بھی اپنے ساتھ لا رہے ہیں جس کو اس سے پہلے والے شٹل مشن کے خلاء بازوں نے خلائی سٹیشن پر چھوڑ دیا تھا۔ اس خلائی مشن میں ڈگ ہرلی بھی شامل تھے۔

1981 کے پہلے شٹل مشن کے ساتھ بھی امریکی پرچم لے جایا گیا تھا۔ امید یہ پرچم دوبارہ خلاء میں اس وقت جائے گا جب امریکہ اس دہائی کے آخر میں دوبارہ خلاء بازوں کو چاند پر بھیجے گا۔