زینوپس ٹیسٹ: جب مینڈک کے ذریعے معلوم ہوتا تھا کہ آپ حاملہ ہیں یا نہیں

افریقی مینڈک زینوپس نے صحارا کے پانیوں میں لاکھوں برس تک پرامن زندگی کا لطف اٹھایا لیکن پھر سنہ 1930 کی دہائی میں ایک دن ایک برطانوی سائنسدان نے ایک مینڈک کو پیشاپ کا ٹیکہ لگا دیا۔

لانسیلٹ ہاگبین جانوروں کے ماہر تھے جو جانوروں کو مختلف مواد، زیادہ تر ہارمونز کے ٹیکے لگانے کا تجربہ کرتے تھے۔ ان تجربات کے دوران انھوں نے حادثاتی طور پر دریافت کیا کہ خواتین میں حمل کے دوران پائے جانے والے ہارمونز سے یہ مینڈک فوراً انڈے دے دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مورین سِمنز سنہ 1960 کی دہائی کے وسط میں افریقی مینڈک زینوپس کے ذریعے حمل کے ٹیسٹ سے ملنے والے نتیجے کے بارے میں بتاتی ہیں، 'میرے ذہن میں ایک تصویر ہے، کم سے کم دو بار، سفید کوٹ پہنے ایک ڈاکٹر اطمینان سے میرے پاس آ کر کہتا ہے۔ میڈنک نے انڈے دے دیے ہیں۔۔۔آپ حاملہ ہیں۔'

زینوپس ٹیسٹ عام نہیں ہوتے تھے اور وہ صرف خاص طبی معاملات کے لیے مخصوص تھے۔ مثال کے طور پر حمل اور ٹیومر میں فرق کرنے کے لیے۔

مورین کے اس سے قبل دو حمل ضائع ہو چکے تھے اور صرف مینڈک ہی تھے جو سچ بتا سکتے تھے۔

مورین کا کہنا ہے 'مجھے اب احساس ہوتا ہے کہ اس ٹیسٹ تک رسائی ہونا میری خوش قسمتی تھی۔‘

طب کی دنیا کے مورخ جیسی اولزینکو گرن کہتے ہیں کہ ’اگرچہ جدید دور میں ہمیں یہ بہت عجیب لگتا ہے، لیکن اس ٹیسٹ کا بنیادی اصول گھر میں حمل کے ٹیسٹ جیسا ہی تھا۔ فرق صرف یہ پڑا ہے کہ اب ہم حمل کے بارے میں کھل کر بات کر لیتے ہیں۔ اپنے آپ کو واپس سنہ 1930 کی دہائی میں لے جائیں تو لفظ حمل کا ذکر نہیں ہوا کرتا تھا۔ لفظ 'حمل' اخبار میں شائع نہیں ہوتا تھا۔ ایسا کرنا بدتمیزی تھی۔

'حمل کا ٹیسٹ یقینی طور پر اس نئی ثقافت کا حصہ ہے جس میں ہم آج رہتے ہیں اور جس میں حمل اور بچے کی پیدائش ایک عام بات ہے جس کا سر عام ذکر ہو سکتا ہے۔‘

1970 کی دہائی میں جب گھر پر حمل کا ٹیسٹ ممکن ہوگیا تو اس کے بعد ان مینڈکوں کی زندگی دوبارہ پر امن ہوگئی۔