آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فزکس کو مردوں کی ایجاد کہنے والا سائنسدان معطل، ’خیالات سرن کے ظابطہ اخلاق کے خلاف ہیں‘
- مصنف, پلب گھوش
- عہدہ, بی بی سی نیوز
فزکس کے ان سینیئر سائنسدان کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے جنہوں نے کہا تھا کہ فزکس ’مردوں کی ایجاد تھی‘ اور انہیں کسی نے اس ایجاد کے لئے دعوت نہیں دی تھی۔ وہ یورپی جوہری ریسرچ سینٹر، سرن میں کام کر رہے تھے۔
پیسا یونیورسٹی کے پروفیسر الیساندرو سترومیا نے ان خیالات کا اظہار ایک پریزنٹیشن کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا تھا کہ فزکس مردو کے خلاف جنسی اعتبار سے امتیازی ہوتی جارہی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار پلب گھوش ان کے یہ خیالات سب سے پہلے منظر عام پر لائے تھے۔
سرن نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ پروفیسر سترومیا کو معطل کرکے ان کے خلاف انکوائری کر رہا ہے۔ سرن کے بقول پروفیسر کی پریزینٹیشن ناقابل قبول ہے اور وہ ان کے ظابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔
اس سے قبل بی بی سی کو معلوم ہوا تھا کہ فزکس میں خواتین کے کردار کے بارے میں پروفیسر نے جو پریزینٹیشن دی تھی اسے ’انتہائی نا پسندیدہ‘ قرار دیا گیا تھا۔
یورپیئن آرگنائزیشن فار نیوکلیئر ریسرچ یعنی سرن کے زیر انتظام ورکشاپ کے دوران پیزا یونیورسٹی کے پروفیسر الیساندرو سترومیا نے کہا کہ ’فزکس کو مردوں نے ایجاد کیا اور بنایا، یہ دعوت میں نہیں ملی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مرد سائنسدانوں کے ساتھ نظریات کی بنا پر نہ کہ قابلیت کی وجہ سے امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر الیساندرو سترومیا جینیوا میں جنس اور ہائی اینرجی فزکس پر ہونے والی ورکشاپ میں گفتگو کر رہے تھے۔
اس کے بعد سے پروفیسر نے اپنے الفاظ کا یہ کہہ کر دفاع کیا کہ وہ صرف حقائق پیش کر رہے تھے۔
سرن کے ساتھ کئی برس سے مسلسل کام کرنے والے پروفیسر سترومیا نے ایک آن لائن لائبریری سے شائع شدہ تحقیق کے نتائج پیش کیے۔
انھوں نے اپنے نوجوان شرکاء کو، جن میں بڑی تعداد خواتین ماہر طبیعیات کی بھی تھی، بتایا کہ ان کے نتائج ’ثابت‘ کرتے ہیں کہ ’فزکس میں خواتین کے خلاف جنسی تعصب نہیں ہے۔ تاہم سچ جو بھی ہو یہ اس سیاسی جنگ کا حصہ ہے جو باہر سے آ رہی ہے۔‘
انھوں نے بہت سے گرافس دکھائے جن میں، ان کے بقول، دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین کو ان مردوں کے مقابلے میں ملازمت پر رکھا جاتا ہے جن کا کام دیگر سائنسدانوں کے شائع کردہ مواد میں موجود ہوتا ہے، جو کہ اعلیٰ کوالٹی کی جانب اشارہ ہے۔
مرد محققوں کے بارے میں امتیازی سلوک پر ثبوت کے طور پر پروفیسر سترومیا نے دعوی کیا کہ ’آکسفورڈ یونیورسٹی میں خواتین کی خاطر امتحانات کا وقت بڑھا دیا جاتا ہے اور اٹلی خواتین طالبعلموں کو مفت یا سستی یونیورسٹی کی پیشکش کرتا ہے۔‘
اسی ورکشاپ میں موجود ماہر طبیعات جیسیکا ویڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پروفیسر سترومیا کا تجزیہ سہل پسندانہ ہے اور ماضی میں غیر معتبر قرار دیے جانے والے خیالات پر مبنی ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’ورکشاپ میں موجود افراد کے لیے یہ بہت پریشان کن ہے۔‘
جیسیکا ویڈ کا کہنا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیسے ایک اچھی سوچ رکھنے والے ادارے سرن نے، جو ریسرچ کے میدان میں جداگانہ سوچ کو پروموٹ کرنے کے لیے بہت کچھ کر چکا ہے، انھیں ایسے نوجوان لوگوں کے سامنے بات کرنے کے لیے مدعو کیا جو تحقیق کے میدان میں اپنا کریئر شروع کر رہے ہیں، جبکہ ان کے خیالات سب جانتے ہیں۔‘
سرن کی پہلی مرتبہ ڈائریکٹر جنرل ایک خاتون بنی ہیں نے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ورکشاپ سے قبل منتظمین کو مذکورہ پروفیسر کی بات چیت کے مواد کے بارے میں علم نہیں تھا۔‘