آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خلا سے انڈیا کی فضا الگ کیوں دکھائی دیتی ہے؟
انڈیا اور اس کے ارد گرد موجود ہمسایہ ممالک جیسے کہ پاکستان کی فضا میں کچھ الگ سا ہے۔
فضا میں فارمَل ڈی ہائيڈ (بے رنگ گیس) موجود ہے جو نباتات سے خارج ہوتی ہے لیکن اس کی ایک اور وجہ فضا کو آلودہ کرنے والے بہت سے کام بھی ہیں۔
اس گیس کی مقدار میں اضافے کے بارے میں یورپ کے نئے سینٹینل-5پی سیٹلائٹ سے معلوم ہوا ہے، جسے گذشتہ اکتوبر میں دنیا بھر میں فضا پر نظر رکھنے کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔
اس معلومات سے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے پالیسیاں بنانے میں مدد ملے گی۔
رائل بیلجیئم انسٹیٹیوٹ فار سپیس ایرونامی سے تعلق رکھنے والی ازابیل ڈی سمیڈ کا کہنا ہے کہ آکسیجن اور نائٹروجن جیسے دیگر اجزا کے مقابلے میں فارمَل ڈی ہائيڈ کے سگنل اصل میں بہت چھوٹے ہیں، یعنی فضا کے ہر ایک بلین مالیکیولز میں چند ہی ایچ سی ایچ او ہوں گے۔ لیکن یہ آلودگی کے عام مسائل میں زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ازابیل ڈی سمیڈ نے بی بی سی کو بتایا : ’فارمَل ڈی ہائيڈ بھاپ بن کر اڑنے والے مختلف قدرتی اجزا سے مل کر بنتی ہے، لیکن اس کا ذریعہ آتش زدگی اور آلودگی بھی ہو سکتے ہیں۔‘
’اس کا انحصار علاقے پر بھی ہے لیکن 50 سے 80 فیصد سگنل بائیو جینک خطے سے ملتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ آلودگی اور آتش زدگی ہے۔ اور یہ کوئلہ جلانے یا جنگلات میں لگنے والی آگ ہو سکتی ہے، لیکن جی ہاں انڈیا میں زرعی آتش زدگی بہت ہے۔‘
انڈیا میں گھروں میں کھانا وغیرہ پکانے کے لیے بڑی تعداد میں لکڑیوں کا استعمال ہوتا ہے۔
جب بھاپ بن کر اڑنے والے قدرتی اجزا نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور سورج کی روشنی یکجا ہوتے ہیں تو ردعمل میں گراؤنڈ لیول اوزون پیدا ہوتا ہے۔
شمالی انڈیا میں راجستھان کے صحرا پر قدر کم فارمَل ڈی ہائيڈ جہاں نباتات کم ہیں اور لوگ بھی کم۔
سیٹلائٹ کا آلہ ٹروپومی فضا میں فارمَل ڈی ہائيڈ کے علاوہ دیگر گیسوں جن میں نائٹر وجن ڈائی آکسائیڈ، اوزون، سلفر ڈائی آکسائیڈ، میتھین، کاربن مونوآکسائیڈ اور ایروسولز شامل ہیں کی موجودگی کا بھی پتہ دیتی ہے۔
ان تمام گیسوں سے وہ فضا متاثر ہوتی ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں اور اسی وجہ سے ہماری صحت بھی، اور ان میں سے کئی گیسیں ماحولیاتی تبدیلی میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر ازابیل ڈی سمیڈ کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس کافی مقدار میں معلومات ہے، لیکن ہمیں مزید کئی دنوں کی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، بعض اوقات کئی سالوں کی نگرانی، تاکہ اس معیار کی معلومات حاصل ہوں۔‘
’نئے (انڈیا) کے نقشے میں چار ماہ کی معلومات ہے۔ ٹروپومی وہ سب ایک ماہ میں کر لیتا ہے جو اومی چھ ماہ میں کرتا ہے۔‘
فارمَل ڈی ہائيڈ جیسی دیگر معلومات کے لیے ہمیں آئندہ خزاں تک انتظار کرنا ہوگا۔