آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دنیا بھر میں چھ بڑے درندوں کی شکارگاہوں میں 90 فیصد کمی ہوئی ہے
ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے چھ بڑے گوشت خور جانوروں کی شکارگاہوں کا 90 فیصد حصہ ختم ہو گیا ہے۔
ایتھیوپیائی بھیڑیے، سرخ بھیڑیے، شیر، ببر شیر، افریقی جنگلی کتے اور چیتے پھیلتی ہوئی انسانی آبادیوں اور کھیتی باڑی کی لپیٹ میں آ کر اپنے علاقے کھو رہے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان جانوروں کی بقا کے لیے انھیں دوبارہ سے اپنے علاقوں میں آباد کیا جانا اشد ضروری ہے۔
رائل سوسائٹی آف اوپن سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق امریکہ کی اوریگون سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کی تھی۔
انھوں نے انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے اعداد و شمار استعمال کرتے ہوئے 25 بڑے گوشت خور جانوروں کی حدود کی نقشہ بندی کی۔
اس سے ظاہر ہوا کہ بڑے درندوں کے علاقے دنیا بھر میں کم ہو رہے ہیں۔
تحقیق کار کرسٹوفر وولف کہتے ہیں: 'ہم نے جن 25 بڑے درندوں کا جائزہ لیا ان میں سے 15 اپنی روایتی علاقے کھو چکے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کی بحالی اور بقا کے لیے ان علاقوں میں ان جانوروں کو دوبارہ آباد کرنے کی ضرورت ہے۔'
سائنس کہتے ہیں کہ یہ عمل ان علاقوں میں زیادہ کامیاب ہو گا جہاں انسانی آبادی کم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ ایسے پروگراموں کی کامیابی کے لیے ان جانوروں کی طرف لوگوں کا رویہ بدلنے کی بھی ضرورت ہے۔
جن ملکوں میں یہ پروگرام شروع کیے گئے ہیں وہاں ان درندوں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔
مثال کے طور پر یورپ میں ریچھ، لومڑی اور بھورے بھیڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔