مردوں کے لیے مانع حمل دوا میں دلچسپی کم کیوں؟

مردوں کے لیے مانع حمل گولیوں کی بات ایک عرصے سے کی جا رہی ہے اور یہ خیال اب جلد ہی حقیقت کا روپ لے سکتا ہے کیونکہ انڈیا میں ڈاکٹروں نے ایک ایسا مانع حمل تیار کر لیا ہے۔

یہ مانع حمل دراصل ایک انجکشن کی شکل میں ہوگا اور ایک رپورٹ کے مطابق 'ریسگ' نام کا یہ مانع حمل كنڈوم کی طرح ہی موثر ہوگا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اسے جانچ میں محفوظ مؤثر اور استعمال میں آسان پایا گيا ہے۔

اس کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مانع حمل کے دوسرے موجودہ دستیاب متبادل کے مقابلے میں سستا ہوگا۔ بہر حال یہ حمل نہ ٹھہرنے کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے اور ابھی اس دوا کو سرکاری ایجنسیوں سے منظوری ملنا بھی باقی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ابھی جشن کا وقت نہیں آیا ہے کیونکہ خواتین کے بوجھ کو کم کرنے اور برتھ کنٹرول کے اخراجات کو کم کرنے کے با وجود مانع حمل بنانے والی بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں ریسگ میں دلچسپی نہیں دکھا رہی ہیں۔

مردوں کے لیے مانع حمل ادویات کی تاریخ طویل اور تھکا دینے والی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کمپنیوں کے اعلی افسران اس مسئلے میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ہرجن کوئلنگ بیننک پیشے سے نسوانی امراض کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے: 'حقیقت یہ ہے کہ بڑی کمپنیوں کو درمیانی عمر کے گورے مرد چلاتے ہیں اور انھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کا استعمال کبھی نہیں کریں گے اور یہی سارے مسئلے کی جڑ ہے۔'

عام خیال یہ ہے کہ بچہ نہ پیدا کرنے کی ذمہ داری مرد نہیں لینا چاہتے، لیکن اب اس خیال کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔

اس کے فروغ میں کیا پیسہ بڑا مسئلہ ہے؟ یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 'ریسگ' مانع حمل سے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ہونے والا موجودہ منافع نصف ہو کر رہ جائے گا اور كونڈوم کے بازار کو بھی اس سے خطرہ ہے۔

ڈاکٹر بیننک کا کہنا ہے کہ 'بلاشبہ سستے، آسان اور عارضی مانع حمل کے لیے بڑا بازار موجود ہے۔'

عالمی ادارہ صحت کے ایک اندازے کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ساڑھے 22 کروڑ خواتین بچہ پیدا کرنے میں تاخیر کرنا یا اسے روکنا چاہتی ہیں، لیکن مانع حمل کی دستیاب ادویات ان کے لیے کافی نہیں ہے۔