آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اوبر خودکار گاڑیوں کو سڑک سے ہٹانے سے انکاری
معروف امریکی کار سروس کمپنی اوبر نے سان فرانسسکو کی سڑکوں سے اپنی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔
کمپنی کو بتا دیا گيا ہے کہ ان کی خودکار کاریں غیر قانونی ہیں۔
کمپنی نے رواں ہفتے اس گاڑی کی تجرباتی جانچ شروع کی تھی لیکن موٹر گاڑی کے محکمے ڈی ایم وی نے کہا ہے کہ اس کے لیے کمپنی کو پہلے ٹیسٹ پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔
اوبر انتظامیہ نے کہا ہے کہ انھیں اس کی ضرورت نہیں کیونکہ سیٹ پر سیفٹی ڈرائیور موجود ہے اور وہ اس مطالبے کو نظرانداز کر دیں گے۔
کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ اوبر فورا اپنا خود کار ڈرائیونگ ٹیسٹ بند کرے یا پھر اپنے خلاف مزید اقدامات کے لیے تیار رہے۔
اٹارنی جنرل کے دفتر کی ترجمان نے کسی مخصوص قدم کی جانب اشارہ نہیں کیا لیکن دفتر کا اگلا قدم اوبر کو حکم بجا لانے کے لیے کورٹ آرڈر ہو سکتا ہے۔
کیلیفورنیا میں گوگل جیسی دوسری کمپنیوں نے اس طرح کی ٹیسٹ ڈرائیونگ کے لیے باضابطہ پرمٹ حاصل کیا ہے۔
ہر پہلی دس گاڑیوں کے پرمٹ کے لیے ڈیڑھ سو ڈالر آتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ مزید 10 گاڑیوں کے لیے 50 ڈالر چارج کیے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیلیفورنیا میں ڈی ایم وی کی جانب سے جاری ایک نوٹس میں کہا گيا ہے کہ آٹونومس وہیکل ٹیسٹنگ پرمٹ کے بغیر سرکاری سڑک پر خودکار یعنی بغیر ڈرائیور والی کاریں چلانا غیر قانونی ہے۔
جمعے کو میڈیا کے ساتھ ایک کانفرنس کال میں اوبر میں ایڈوانس ٹیکنالوجی کے نائب صدر اینتھونی لیوانڈوسکی نے کہا کہ اوبر کمپنی حکام کا 'احترام' کرتی ہے لیکن ان ضابطوں کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ پرمٹ کی ضروت ایسی کاروں کے لیے ہے جس میں 'براہ راست جسمانی کنٹرول نہ ہو یا جو کسی انسان کی نگرانی کے بغیر چل رہی ہو۔'
انھوں نے بتایا کہ اوبر کار کو انسان کی ضرورت ہے اس کے باوجود کمپنی اپنی گاڑیوں کو خودکار ڈرائیونگ کار کہتی ہے۔
انھوں نے اپنی مدافعت میں ٹیلسا کار کی مثال دی جس میں آٹوپائلٹ نظام ہے اور جب گاڑی کو اس نظام کے سپرد کردیا جاتا ہے تو وہ خود بخود ٹریفک کے حساب سے اپنی راہداریاں بدلتی ہے۔