دمدار ستارے 67 پی کی جانب بھیجے جانے والے خلائی سیارے روزیٹا کا مشن ختم

67P

،تصویر کا ذریعہESA/ROSETTA/NAVCAM

،تصویر کا کیپشن67 پی اور روزیٹا سورج سے 400 ملین کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود تھے
    • مصنف, جوناتھن آموس
    • عہدہ, بی بی سی کے نامہ نگار برائے سائنس

دس برس قبل خلا ميں بھيجا جانے والے روزيٹا نامي سيٹيلائٹ کے دمدار ستارے سے ٹکرا کر تباہ ہونے کے ساتھ ہي اِس کا تاريخي مشن آج ختم ہوگیا ہے۔

اِس سيٹيلائٹ کو دمدار ستارے 67 پی کے مطالعے کے ليے بھيجا گيا تھا اور يہ دو برس سے يہ کام کر رہا تھا۔ یورپين سپيس ايجنسي کا کہنا تھا کہ روزيٹا سورج سے اتني دور ہوتا جا رہا تھا کہ اپني بيٹرياں خود سے ري چارج کرنے کے قابل نہيں رہتا۔

یورپی خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مصنوعی سیارے کی کارآمد زندگی ختم ہو رہی تھی اور وہ اس کی تباہی سے قبل کچھ آخری اعدادوشمار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

Rosetta's final mission

روزیٹا نامی خلائی جہاز جو گذشتہ دو برس سے اس دمدار ستارے پر نظر رکھے ہوئے تھا، اب اسی چار کلومیٹر چوڑی برف اور گرد کی دیوار سے ٹکرائے گا۔

خیال یہی تھا کہ روزیٹا 67 پی سے اپنے تصادم کو برداشت نہیں کر سکے گا اور تباہ ہو جائے گا۔

تاہم اگر اس کے کچھ حصے کام بھی کرتے رہے تب بھی اس میں موجود سافٹ ویئر تصادم پر ہر چیز کو بند کر دے گا۔

Rosetta's final mission

جرمنی میں واقع کمانڈ سینٹر میں موجود کنٹرولرز نے روزیٹا کو جمعرات کی شب اپنا راستہ تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وہ اب دمدار ستارے کی براہِ راست راہ میں آ گیا ہے۔

دمدار ستارے اور روزیٹا کے درمیان فاصلہ اب کم ہوتا جا رہا ہے اور وہ جمعے کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن 11 بج کر 18 منٹ پر 67 پی سے ٹکرا جائے گا۔

روزیٹا اگست 2014 میں دس سال کے سفر کے بعد اس ستارے تک پہنچا تھا اور یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کوئی خلائی جہاز کسی دمدار ستارے کی سطح کے قریب پہنچا تھا۔

Rosetta's final mission

25 ماہ جاری رہنے والی تحقیق کے دوران اس سیارے کی ایک لاکھ سے زیادہ تصاویر کھینچیں اور اعدادوشمار حاصل کیے۔

ان معلومات کی مدد سے دمدار ستاروں کی ساخت، کیمیا اور رویوں کے بارے میں ایسی معلومات ملیں جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔

روزیٹا نے نومبر 2014 میں دمدار ستارے پر 'فیلے' نامی ایک روبوٹک گاڑی بھی اتاری اور یہ بھی خلائی تاریخ میں ایسا پہلا واقعہ تھا۔

روزیٹا کے فلائیٹ ڈائریکٹر آندریا اکومازو کا کہنا ہے کہ'ہم اس مشن کے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں لیکن روزیٹا سے حاصل کردہ ڈیٹا آنے والی کئی دہائیوں تک کام آتا رہے گا۔'

ای ایس اے کے سینیئر سائنس ایڈوائزر مارک میکاگریئن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم دنیا کو ایک دمدار ستارے کے مرکز میں ایک سنسنی خیز سفر پر لے گئے اور ہم نے دیکھا کہ دنیا نے روزیٹا اور فیلے کے اس کارنامے کو دل میں بسا لیا۔

67 پی اعدادوشمار کی روشنی میں

  • دمدار ستارے کے گرد چکر مکمل کرنے میں 12 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔
  • دمدار ستارے کے سب سے بڑا حصہ یا اس کا جسم 4 × 3 × 2 کلومیٹر کا ہے۔
  • دمدار ستارے کے سب سے چھوٹا حصہ یا اس کا سر 2 × 2 × 2.5 کلومیٹر کا ہے۔
  • کششِ ثقل کے پیمانوں کے تحت اس ستارے کا وزن دس ارب ٹن ہے۔