کابل میں بم دھماکہ، رکن پارلیمان سمیت تین ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں ایک رکنِ پارلیمان اور کم از کم دیگر تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکے میں شیر ولی وردک نامی رکنِ پارلیمان زخمی ہوئے تھے اور ان کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
کسی گروہ نے اب تک اس حملے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
اس سے قبل اتوار کو ہی افغانستان کے صوبے لوگر میں ایک عدالت پر ہونے والے تین خودکش حملوں میں سات افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔
ان خودکش حملوں میں ایک پراسیکیوٹر بھی مارا گیا۔
حکام کے مطابق اس حملے میں ملوث تینوں حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
لوگر میں حکومتی ترجمان سلیم صالح نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور خواتین کے لباس میں ملبوس تھے۔
لوگر میں عدالت پر حملے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ عدالت پر یہ حملہ کابل میں قید اُن کے ساتھیوں کو پھانسی دینے کا ردعمل ہے۔
افغان طالبان نےاس حملے میں مارے جانے والے پراسیکیوٹر اکرم نجات کی تصویر بھی جاری کی ہے۔
یاد رہے کہ یہ گذشتہ چار دنوں میں افغانستان میں عدالتوں پر ہونے والا دوسرا بڑا حملہ تھا۔
اس سے قبل طالبان نے ملک کے صوبہ غزنی کی ایک عدالت پر حملہ کیا تھا۔ جس میں ایک پولیس اہلکار اور پانچ شہری ہلاک ہوئے تھے۔







