انڈین ریاست تری پورا سے ’آفسپا‘ ہٹا دیا گيا

انڈین فوج

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانسانی حقوق کے کارکنان نے ترپورا کی حکومت کے اس قدم کا خیر مقدم کیا ہے

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست تری پورا کی حکومت نے فوج کو حاصل خصوصی اختیارات والے متنازعہ قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ یعنی ’آفسپا‘ کو اٹھارہ سال کے بعد ختم کردیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے تری پورا کے وزیر اعلٰی مانک سرکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بدھ کو ہونے والے کابینہ کے ایک اجلاس میں اس قانون کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مانک سرکار کا کہنا تھا ’ ہم نے حساس علاقوں میں حالات کا ہر چھ ماہ کے بعد جائزہ لیا جس کے بعد اس بارے میں ریاستی پولیس اور فوج کے ساتھ بھی مشورہ کیا گیا۔ ‘

واضح رہے کہ تری پورا میں بائیں بازوں کی جماعت سی پی ایم یعنی مارکسٹ کمیونسٹ پارٹی اقتدار میں ہے۔

مانک سرکار کا مزید کہنا تھا کہ اب ریاست میں شورش ختم ہوگئی ہے اس لیے اب اس یہاں قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

تری پورا میں علیحدگی پسند تحریک شروع ہونے کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد وہاں 16 فروری 1996 کو آفسپا نافذ کیا گیا تھا۔

تری پورا میں فی الحال 74 پولیس تھانے ہیں۔ ان میں سے چھبیس پولیس تھانے مکمل طور پر آفسپا کے تحت کام کرتے تھے جبکہ چار دیگر پولیس تھانوں میں جزوری طور پر یہ قانون نافذ تھا۔

انڈین پارلیمان نے ملک کے بعض حصوں میں جاری علیحدگی پسند تحریک کا سدِباب کرنے کے لیے 11 ستمبر 1958 کو آفسپا قانون کو منظوری دی تھی۔ یہ قانون سب سے پہلے منی پور میں لاگو کیا گیا، اور بعد میں دوسری شمال مشرقی ریاستوں آسام، تری پورہ، میگھالیہ، میزورم اور ناگالینڈ کو بھی اس زمرے میں لایا گیا۔ جموں کشمیر میں اس قانون کا اطلاق اُنیس سو نوّے میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی کیا گیا۔

ریاست پنجاب میں سنہ 1970 کے آخر میں شروع ہونے والی شورش کے دوران وہاں آفسپا نافذ کیا گیا۔

مانک سرکار

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشنترپورا کی حکومت کا کہنا ہے ریاست میں امن کے حالات میں بہتری کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے

اس قانون کے تحت کسی بھی ریاست میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث فوج یا نیم فوجی اہلکاروں کے خلاف مقامی حکومت کوئی تعزیری کاروائی نہیں کرسکتی۔ یہ قانون فوجی اہلکاروں کو کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت بغیر عدالتی اجازت کے گرفتار کرنے اور کسی بھی گھر میں کسی بھی وقت تلاشی لینے کا اختیار دیتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا الزام ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں اور کشمیر میں پولیس نے اس قانون کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور انھوں نے اسی قانون کی آڑ میں ’جعلی مقابلے‘ کیے ہیں۔

کشمیر میں فوجی اختیارات کے قانون (افسپا) کو ختم کرنے کی سیاسی بحث کئی سال سے جاری ہے۔ ریاست میں علیٰحدگی پسند تنظیموں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں مسلح تشدد کا خاتمہ ہوچکا ہے، لہٰذا یہ قانون ختم ہونا چاہیئے۔ لیکن فوجی حکام اس مطالبہ کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کے ذریعہ مسلح دراندازی کا خطرہ موجود ہے اور کشمیر میں تعیناتی کے دوران فوج کو قانونی تحفظ کی ضرورت ہے۔

منی پور میں انسانی حقوق کی کارکن اروم شرمیلا گزشتہ دس برسوں سے اس قانون کو ختم کرنے کے مطالبے میں احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال پر ہیں، انہیں حکومت کی جانب سے زبردستی ناک کے ذریعے خوراک دی جارہی ہے۔

تری پورا کی حکومت کے اس فیصلے کو انسانی حقوق کے کارکنان نے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے وہیں سوشل میڈیا میں زبردست ردعمل سامنے آیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تری پورا کا بعد اب کشمیر اور آسام میں بھی اس قانون کو ختم کیا جائے۔