نیپال میں ’اوجھل‘ تبتی باشندے کہاں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہRani SIngh
نیپال میں زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔
لیکن حکام کو ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کیسے یقین کو سکتا ہے، یا وہ ان ہلاک یا زخمی ہونے والے تبتیوں کو نیپالی آبادی میں کہاں تلاش کریں گے، جو ملک میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں اور ان کی اندراج بھی نہیں ہوا ہے۔
تبت کے چین کے زیرتسلط آنے کے بعد سنہ 1959 سے تبتی باشندے ہمالیہ کے دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے چین سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ اور اس وقت سے وہ اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
ان کا مقصد نیپال میں پناہ حاصل کرنا اور اگر ممکن ہو سکے تو بھارت میں داخل ہونا ہے۔ تبتیوں کی ایک محدود تعداد نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے پناہ گزینوں کے مرکز میں رہ رہی تھی۔
تبتی باشندوں کی دوسری نسل میں سے ایک قلیل تعداد نیپالی شہریت کی حامل ہے جبکہ ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پر رہ رہی ہے۔
ان کے پاس رہائش کے حقوق نہیں ہے اور نہ ہی شناختی کارڈز ہیں۔ وہ بے ملک و قوم ہیں، چنانچہ وہ نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
نیپال ان کے بارے میں بات کرنے پر رضا مند نہیں کیونکہ اس کو خدشہ ہے کہ اس سے اس کا شمالی ہمسایہ اور ملک میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ناراض ہوجائے گا۔

،تصویر کا ذریعہrani singh
بیشتر تبتی باشندے کھٹمنڈو کے باہر چین تک پھیلے دور دراز پہاڑی دیہات میں خاموشی سے رہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ دیہات زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں تاہم جو گاؤں تباہ ہو گئے ہیں ان کی باقاعدہ شناخت ممکن نہیں کیونکہ سرکاری طور پر وہ وجود نہیں رکھتے۔
کھٹمنڈو کے شمال میں تبت کی سرحد کے قریب واقع بریدم جیسے تبتی دیہات کا شمار غریب ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور حالیہ زلزلے کے بعد وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
ڈولما ڈویلپمنٹ فنڈ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو نیپال میں تبتی باشندوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ انھوں نے دھونچے میں ایک سکول قائم کیا ہے جو بریدم سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اس سکول میں علاقے کے 500 تبتی بچوں اور یتیموں کو تعلیم دی جاتی ہے۔
ڈولما کی چیف فنانس آفیسر کارلا ٹیکسیرا الویرس کاسپر کہتی ہیں ’بریدم صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے۔‘
’ہمیں کچھ علم نہیں ہے کہ کتنے لوگ زندہ بچے ہیں۔ یہاں کوئی امدادی کارروائی نہیں کی جارہی۔‘
وہ قریبی گاؤں بھورلے میں پانی کی دستیابی کے بارے میں بھی پریشان ہیں۔

،تصویر کا ذریعہrani singh
’یہ ایک بہت بڑی کچی آبادی ہے۔ یہاں بچے ہیں۔ یہاں پانی کی صرف ایک پائپ لائن ہے جو پہاڑوں سے آتی ہے اور اگر وہ کٹ گئی تو ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔ بیماریاں تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔‘
انھوں نے ’خوفناک تودے‘ گرنے کا بھی ذکر کیا۔
کاسپر کا کہنا تھا کہ ’ایک دو ماہ میں مون سون شروع ہوجائے گا، اور میرا نہیں خیال کہ دسمبر سے پہلے تک بجلی یا مواصلاتی نظام یا کم از کم پہاڑی راستوں کی سڑکیں پھر سے بحال کر دی جائیں گی۔ مون سون میں سب کچھ رک جائے گا۔‘







