’کسی کو سجایا سنوارا تو کوئی جرم تو نہیں کیا‘

،تصویر کا ذریعہcharu
’میں نے کسی کو سجایا سنوارا تو کوئی جرم تو نہیں کیا۔ میک اپ کوئی بھی کرے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔‘
یہ کہنا ہے دلی میں رہنے والی میک اپ آرٹسٹ چارو کھرانا کاجنہیں بھارت میں پہلی بار ایک رجسٹرڈ خاتون میک آرٹسٹ ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
گزشتہ کئی عشروں سے ممبئی کی فلمی صنعت سے وابستہ تنظیم ' ممبئی سنے کسٹیوم، میک اپ آرٹسٹ اینڈ ہیئر ڈریسرز ایسو سی ایشن' میں کسی بھی خواتین کے رجسٹریشن پر پابندی عائد تھی اس لیے چارو کھرانا تمام صلاحیتوں کے باوجود بالی وڈ یا اس سے متعلقہ کسی فلم میں آسانی سے کام نہیں کر پارہی تھیں۔
لیکن اب انہوں نے تقریبا دس برس سے جاری قانونی جنگ جیت لی ہے اور سپریم کورٹ نے ان کی مشکلیں آسان کر دی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ کام کرنے کے لیے ’مجھے تو ہر ماہ پیسے دینے پڑتے تھے تاکہ میں وہ کرسکوں جو مجھے کرنا پسند ہے۔ لوگوں کو خوبصورت بنانا۔‘
گزشتہ جنوری میں جب امریکی صدر براک اوباما نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو ان کا میک اپ چارو کھرانا نے ہی کیا تھا اور وہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔ لیکن اس منزل تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔
چارو کہتی ہیں ’میں نے اپنی کریئر کی شروعات دہلی میں کی۔ میں اشتہار کے لیے لوگوں کا میک اپ کرتی تھی۔ پھر میں ممبئی گئی اور میں نے ممبئی کے سنے كسٹيوم، میک اپ آرٹسٹ اور ہیئر ڈریسرز ایسوسی ایشن کا رکن بننے کی کوشش کی۔‘

،تصویر کا ذریعہcharu
چارو نے بتایا، ’میں نے اپلائی کیا تو انہوں نے کہا کہ میں مہاراشٹر میں 15 برس کے زیادہ عرصے سے مقیم نہیں ہوں اسل لیے مجھے رکنیت نہیں مل سکتی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چارو کے بقول بغیر ادارہ کی رکنیت کے بغیر کام کرنے کا مطلب تھا کہ ہر ماہ ’مجھے 1500 روپے دینے ہوں گے۔ لیکن ایک دن تو حدہوگئی جب ہم ایک فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ وہاں تقریبا 300 لوگ آئے اور شوٹنگ روكوا کر مجھے بے عزت کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں ایک عورت ہو کر میک اپ کر رہی تھی۔‘
چارو کہتی ہیں کہ انہوں نے سوچا کہ کسی کو سنوارنا تو کوئیجرم نہیں ہے ’اس لیے میں نے عدالت کا دروازہ كھٹكھٹايا۔‘
اسی ہفتے سپریم کورٹ نے اس ادارہ کے 59 برس پرانے قانون کو غیرآئینی بتایا اور کہا کہ یہ جانبداری اور امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔
عدالت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ اگر ’سنے كسٹيوم، میک اپ آرٹسٹ اور ہیئر ڈریسرز ایسوسی ایشن‘ اگلی سماعت تک ایک ’مثبت جواب‘ کے ساتھ واپس نہیں آئی تو یہ قانون پوری طرح سے ختم سمجھا جائیگا۔‘

،تصویر کا ذریعہcharu
کسی بھی میک اپ آرٹسٹ کے لیے بالی وڈ کے اداکاروں اوراداکاراؤں کا میک اپ کرنا ان کی شہرت کا ایک ذریعہ ہوتا ہے۔
لیکن چارو نے بالی وڈ کے اداکاروں کے ساتھ ساتھ امریکہ کےصدر براک اوباما کا بھی میک اپ کیا۔
وہ کہتی ہیں ’میں نے امریکہ کے صدر براک اوباما، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی، وراٹ کوہلی، ابھشیک بچّن اور کمل ہاسن کے ساتھ کام کیا ہے۔ لیکن اپنے کام کو میں کبھی اپنا نا کہہ پائی تاہم اس تبدیلی کی وجہ سے اب میں اپنے کام کو اپنا کہہ سکوں گی۔‘
اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ایک خاتون میک اپ آرٹسٹ کو بھی کسی بھی فلم کے میک اپ کا كنٹریكٹ مل سکتاہے جو پہلے صرف مرد میک اپ فنکاروں کو ہی ملتا تھا۔
چارو کے مطابق فلموں کے سیٹ پر اگر زیادہ خواتین ہوں گی توخواتین فنکاروں کو بھی اچھا لگے گا۔







