بدعنوانی کا الزام، سابق چینی سکیورٹی چیف پر فردِ جرم عائد

زہو یونگ کانگ جن کی عمر اب 70 سال سے زیادہ ہے، ایک زمانے میں چین کے سب سے طاقتور انسان تصور کیے جاتے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنزہو یونگ کانگ جن کی عمر اب 70 سال سے زیادہ ہے، ایک زمانے میں چین کے سب سے طاقتور انسان تصور کیے جاتے تھے

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی داخلی سلامتی کے اداروں کے سابق سربراہ زہو یونگ کانگ پر بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جان بوجھ کر ریاستی راز افشا کرنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

2012 میں ریٹائر ہونے والے یونگ کانگ کے خلاف جولائی 2014 میں تحقیقات شروع ہوئی تھیں اور جبھی انھیں کمیونسٹ پارٹی سے بھی نکال دیا گیا تھا۔

وہ چین میں گذشتہ کئی دہائیوں میں ایسی تحقیقات کا ہدف بننے والے پہلے بڑے اہلکار ہیں۔

چینی خبر رساں ادارے زنہوا کے مطابق زہو یونگ کانگ کا معاملہ ملک کے شمالی ساحلی شہر تیانجان کی عدالت کو بھیجا گیا ہے۔

اس سے قبل چین کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ یونگ کانگ کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلے گا تاہم مقدمے کی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

زہو یونگ کانگ جن کی عمر اب 70 سال سے زیادہ ہے، ایک زمانے میں چین کے سب سے طاقتور انسان تصور کیے جاتے تھے۔

وہ چین میں اہم ترین فیصلے کرنے والی ’پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی‘ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

چین کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ یونگ کانگ کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلے گا

،تصویر کا ذریعہXINHUA

،تصویر کا کیپشنچین کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ یونگ کانگ کا مقدمہ کھلی عدالت میں چلے گا

تاہم سنہ 2013 کے اواخر سے انھیں کسی عوامی تقریب میں نہیں دیکھا گیا جس کے بعد سے ہی ان کے خلاف تحقیقات کی خبریں گرم تھیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کمیونسٹ پارٹی میں کرپشن کے خاتمے کا عزم کیا تھا جس کے بعد حالیہ مہینوں میں کئی اعلی عہدیداروں کو کرپشن کے الزامات کے تحت اپنے عہدوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

ان عہدیداروں میں سب سے سینیئر عہدیدار مسنٹری آف پبلک سکیورٹی کے سربراہ زو یان گانگ ہیں جبکہ جنوری 2015 میں چین کے نائب وزیر خارجہ زانگ کنشنگ کے خلاف بھی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا۔

زہو یونگ کانگ کے کئی سابق ساتھیوں کے خلاف بھی پہلے ہی کارروائی شروع ہو چکی ہے اور ان میں سے کچھ تو جیل میں بھی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زہو یونگ کانگ کے خلاف تحقیقات سے صدر شی جن پنگ کو نہ صرف اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے بلکہ وہ ایسے افراد کو ہٹانے میں بھی کامیاب ہو رہے ہیں جو ان کے اصلاحی ایجنڈے کے حامی نہیں۔