بنگلہ دیش میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، دس ہندو یاتری ہلاک

جنوبی ایشیا میں مذہبی تہواروں اور تقریبات کے موقع پر بھگدڑ مچنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنوبی ایشیا میں مذہبی تہواروں اور تقریبات کے موقع پر بھگدڑ مچنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نزدیک مذہبی رسومات کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم دس ہندو یاتری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ڈھاکہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمعے کی صبح ڈھاکہ سے 20 کلومیٹر دور واقع ضلع نرائن گنج میں پیش آیا ہے۔

پولیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دسیوں ہزاروں ہندو یاتری دریائے برہم پترا کے کنارے اشٹمی اشنان کے موقع پر نہانے کے لیے جمع تھے کہ بھگدڑ مچ گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھگدڑ دریا کی جانب جانے والے تنگ راستے پر مچی اور اس واقعے میں سو سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تاحال بھگدڑ مچنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگلہ دیشی پولیس کے ایک اہلکار محمد زکریا کے حوالے سے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کی عمریں 50 برس سے زیادہ تھیں اور ہلاک شدگان میں سات خواتین بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جنوبی ایشیا میں مذہبی تہواروں اور تقریبات کے مواقع پر بھگدڑ مچنے کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں اور خصوصاً بھارت میں ایسے واقعات میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔