چین: جاسوسی کے شبے میں کینیڈین شہری زیرِ حراست

جوڑے کو چھ ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP Simeon Garratt

،تصویر کا کیپشنجوڑے کو چھ ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔

چین کا کہنا ہے کہ ریاست کے راز چوری کرنے کے شبے میں کینیڈا کا ایک شہری اس کی حراست میں ہے، لیکن اس کی بیوی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

کیون اور جولیا گیرٹ نامی اس مسیحی جوڑے کو جو شمالی کوریا کی سرحد پر ’ڈینگ ڈانگ‘ کے علاقے میں ایک کافی شاپ چلاتے تھے کو چھ ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان پر دفاعی راز چوری کرنے کا شبہ ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کی حکومتِ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کے بارے میں بہت فکر مند ہے۔ کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ اگرچہ ہم جولیا گیرٹ کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر کینیڈا کی حکومت کو کیون گیرٹ کی حراست پر شدید تشویش ہے اور یہ معاملہ ہم نے اعلیٰ چینی قیادت کے سامنے اٹھایا ہے اور اٹھاتے رہیں گے۔‘

جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ’ہونگ لی‘ کا کہنا تھا کہ’ کیون گیرٹ کو ریاستی راز چوری کرنے اور جاسوسی کے الزام میں حراست میں رکھا گیا ہے اور جولیا کو مقدمے کی سماعت تک ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔‘

ہونگ لی کا مزید کہنا تھا کہ ’ اس معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور حکومتِ چین اس مقدمے میں تمام قانونی تقاضے پورے کرے گی۔‘

خاندان کے وکیل کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جوڑے کو نا باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے اور نا ہی ان پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ جوڑے کو کینیڈا کی حکومت کی جانب سے چین پر کینیڈا کی ایک اعلی سرکاری تحقیقی تنظیم پر سائبر حملے کا الزام لگانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔