بھارت: غیر انسانی حالات میں کام کرنے والے سینکڑوں بچے رہا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
جنوبی بھارت کی فیکٹریوں میں ’غیر انسانی حالات‘ میں کام کرنے والے سینکڑوں بچوں کو آزاد کروا لیا گیا ہے۔
بھارت کے شہر حیدر آباد میں گذشتہ دس دنوں کے دوران چمڑے کے کارخانے اور پلاسٹک ورکشاپوں میں چھاپے مار کر کم سے کم 350 بچوں کو آزاد کروایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بچوں سے انتہائی بدترین حالات میں طویل اوقات تک کام کرتے تھے۔
بھارت میں غربت اور تعلیم کی کمی کے نتیجے میں متعدد بچوں کو کام کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔
بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ پانچ افراد پر ایک فیکٹری کو کم عمر نوجوان سپلائی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے اہلکاروں نے جمعرات کو بھارت کی سب سے غریب ریاست بہار میں چند بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کم سے کم 200 دیگر بچوں کو بھارت کی شمالی ریاست بہار میں واپس بھیجا گیا۔
پولیس کے ایک اہلکار ستیانارائنہ نے بتایا کہ آزاد کروائے جانے والے بچے جلد اور دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ان بچوں کو غیر انسانی حالات میں کام کرتے پایا۔
پولیس اہلکار کے مطابق ان بچوں کو ایک دن میں بغیر کسی وقفے کے 12 گھنٹے تک کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان بچوں کو حفظانِ صحت کے منافی ایسے کمروں میں رکھا جاتا تھا جس میں ہوا اور روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور ویڈیو کیمروں کی مدد سے ان کی نگرانی کی جاتی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ کام نہ کرنے والے بچوں کے ساتھ تشدد بھی کیا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ بھارت میں بچوں کی مشقت کے خلاف لڑنے کے قوانین موجود ہیں جس میں 14 سال کی عمر کے بچوں کی لازمی تعلیم بھی شامل ہے۔
بھارت میں سنہ 2012 میں 14 سال سے کم عمر کے بچوں کے کام کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
بھارت میں ان کوششوں کا سہرا کیلاش ستیارتھی کو دیا جاتا ہے جنھوں نے بچوں اور نوجوانوں کے استحصال کے خلاف اور ’تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق‘ کے لیے کوششیں کیں۔
ان کے اس کام پر انھیں گذشتہ برس امن کا نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔
بھارت میں اب بھی لاکھوں بچے کام کر رہے ہیں۔ سنہ 2011 میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق یہ تعداد 43 لاکھ پچاس ہزار تھی۔
بھارت میں متعدد والدین کا موقف ہے کہ وہ غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو کام کرنے کے لیے فیکٹریوں یا دوسرے کے گھروں میں کام کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔
بھارت میں بچوں کو اغوا کرنے کے بعد مختلف خطوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔
بھارت میں بچوں کی فلاح سے متعلق ایک ادارے کے اہلکار کا کہنا ہے کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے بچوں کا پتہ چلانے کے لیے اب مہینے میں دو بار چھاپے ماریں جائیں گے۔







