چین کے زیادہ تر شہر فضائی آلودگی کے ٹیسٹ میں ناکام

،تصویر کا ذریعہReuters
چین میں ماحولیات کے وزارت کے ایک سروے کے مطابق ملک کے 74 بڑی شہروں میں سے صرف آٹھ کی فضا مقرر کردہ معیار پر پورا اترتی ہے۔
سروے میں دارالحکومت بیجنگ سے متصل صوبہ ہیبئی کی فضا سب سے آلودہ تھی جبکہ بیجنگ اور شنگھائی میں بھی فضائی آلودگی مقررہ کردہ معیار سے زیادہ ہے۔
چین فضائی آلودگی کے سنگین ہوتے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی رہا ہے لیکن اس میں کوئلے پر انحصار کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت نے گذشتہ سال صوبہ ہیبئی میں کوئلے سے چلنے والی آٹھ ہزار فیکٹریوں کو بند کر دیا تھا لیکن ملک کی معیشت کی شرح نمو میں کمی کی وجہ سے حکام فیکٹریوں کی بندش میں بھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔
وزارتِ ماحولیات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سال 2014 کے نتائج میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتری آئی ہے تاہم اب بھی ملک میں فضائی آلودگی کا مسئلہ سنگین رہے گا۔
اس سے پہلے ملک کے صرف تین شہر فضائی آلودگی کی مقررہ حد پر پورا اترے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سروے میں فضا میں موجود نائٹروجن، کاربن مونوآکسائڈ کے مقدار کا جائزہ لیا گیا۔
ملک کا جنوبی شہر ہائکو کی فضا سب سے صاف ریکارڈ کی گئی جبکہ ملک کے شمالی صنعتی شہر بوڈنگ کی فضا سب سے آلودہ تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارتِ ماحولیات کے بیان میں بیجنگ اور شنگھائی کی درجہ بندی کے بارے میں نہیں بتایا گیا مگر صرف اتنا کہا گیا کہ دونوں شہروں کی فضائی آلودگی میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔
چین میں حکام نے گذشتہ سال فضائی آلودگی کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا اور اس حوالے سے شہروں کی درجہ بندی شائع کرنا شروع کی ہے۔
حکام نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ملک میں کوئلے کے استعمال پر پابندیاں لگائی جائیں گی جبکہ آلودگی کا سبب بننے والی لاکھوں گاڑیوں کو سڑکوں پر نہیں آنے دیا جائے گا اور ماحول دوست توانائی پر انحصار کو فروغ دیا جائے گا۔







