’پاکستان سے آنے والی کشتی تعاقب پر تباہ ہو گئی‘

،تصویر کا ذریعہIndian MOD
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارتی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے آنے والی ایک کشتی اکتیس دسمبر کی شب مشتبہ انداز میں بھارتی سمندری حدود میں داخل ہوئی لیکن بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے چیلنج کیے جانے پر کشتی میں سوار افراد نے اسے آگ لگا کر تباہ کر دیا۔
دوسری جانب پاکستانی حکام کی جانب سے ابھی تک نہ تو اس واقعے کی کوئی تصدیق کی ہے اور نہ ہی کسی سطح پر کوئی بیان سامنے آیا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق اس کشتی میں چار افراد سوار تھے اور اس پر دھماکہ خیز مواد لداہوا تھا۔ لیکن کشتی کے عملے کو بچایا نہیں جا سکا کیونکہ آگ لگائے جانے کے کچھ دیر بعد دھماکہ ہوا اور کشتی غرقاب ہوگئی۔
ممبئی پر 2008 کے حملوں کے لیے بھی مبینہ طور پر مچھلی پکڑنے کے کام آنے والی ایک کشتی استعمال کی گئی تھی۔
وزارت دفاع کے مطابق انٹیلیجنس ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات کے پیش نظر گذشتہ تقریباً دو مہینوں سے ساحلی علاقوں میں خاص نگرانی کی جا رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہIndian MOD
کوسٹ گارڈ کی جانب سے جلتی ہوئی کشتی کی تصاویر جاری کی گئی ہیں اور بھارتی ٹی وی چینلوں پر وزارت دفاع کے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر لشکر طیبہ کی جانب سے ایک اور بڑا حملہ کرنے کی کوشش تھی لیکن وزارت دفاع نے اپنے بیان میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ واقعہ گجرات کےشہر پوربند سے تقریباً ساڑھے تین سو کلومیٹر دور بھارت اور پاکستان کی سمندری سرحد کے قریب پیش آیا۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسے انٹیلی جنس کے ذریعہ یہ معلومات حاصل ہوئی تھی کہ ’ کراچی کے قریب کیٹی بندر سے روانہ ہونے والی ایک کشتی بحیرہ عرب میں کچھ غیر قانونی کام انجام دے گی۔۔۔جب اسے تلاشی اور تفتیش کے لیے رکنے کا حکم دیا گیا تو کشتی میں سوار افراد نے فرار کی کوشش کی، کوسٹ گارڈ نے تقریباً ایک گھنٹے تک اس کا تعاقب کیا اور آخرکر اسے روکنے میں کامیاب ہوگئی۔۔۔اس دوران تنبیہہ کے طور پر فائرنگ بھی کی گئی۔۔۔لیکن کشتی پر سوال چار افراد نے اس میں آگ لگا دی اور کچھ ہی دیر بعد ایک دھماکہ ہوا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہIndian MOD
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ خراب موسم اور اندھیرے کی وجہ سے کشتی اور اس کے عملے کو بچایا نہیں جا سکا۔ کشتی جل کر اسی جگہ ڈوب گئی اور کوسٹ گارڈ اب بھی عملے کی تلاش کر رہی ہے۔
پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مقامی میڈیا پر پاکستانی کشتی کے غرقاب ہونے کی خبروں کے بعد انھوں نے ماہی گیروں سے رابطے کیے ہیں لیکن ابھی تک کسی پاکستانی کشتی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کیٹی بندر میں رابطے کیے گئے ہیں اور وہاں سے کھلے سمندر میں جانے والی کسی بھی کشتی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں جن میں اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عبداللہ سعد جو دفاعی معاملات کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہیں نے لکھا کہ ’ایک راجشری کلاس کی گشت کرنے والی کشتی جس میں 2800 bhp کا انجن لگا ہو جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 31 ناٹس ہو اور ایک معمولی ماہی گیروں کی کشتی کا ایک گھنٹے تک پیچھا کرتا رہے؟ یہ تکنیکی طور پر پلے پڑنے والی بات نہیں ہے اور میں پاکستان چھالیہ، جوس کے ڈبے اور دودھ کے کارٹن جلد دیکھنے کی توقع کر رہا ہوں جو اس سارے واقعے میں بچ گئے مگر چاروں سوار نہیں بچے۔‘







