مذہب کی زبردستی تبدیلی پر راجیہ سبھا میں ہنگامہ

،تصویر کا ذریعہRajayasabha TV
بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں مذہب کی زبردستی تبدیلیوں کے مسئلے پر ہنگامہ آرائی کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سخت گیر ہندو تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنانے کی مہم پر پیر کے روز ایوان بالا میں ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
بھارت میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی کٹر ہندو تنظیموں کی طرف سے ملک میں زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے اجتماعات منعقد کرنے کے واقعات پر حزب اختلاف کے ارکانِ حکومت سے اس بارے میں اپنا موقف واضح کرنے کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام ہے کہ وہ جان بوجھ کر ایک حکمت عملی کے تحت اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور اُس نے اِس مہم کی درپردہ اجازت دے رکھی ہے۔ اسی بنا پر پارلیمنٹ میں حزب اختلاف سراپا احتجاج ہے اور ایوان کی کارروائی متاثر ہو رہی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اصلاحات کے ایجنڈے کو کٹر ہندو تنظیموں کی طرف سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی ہندو بنانے کے واقعات کے بعد زبردست نقصان پہنچا ہے اور اس معاملے پر پارلیمان کے اندر اور پارلیمان کے باہر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
حزب اختلاف کے ارکان نے راجیہ سبھا کے اجلاس کے دوران شدید احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کی دستاویزات کو پھاڑ کر پھینکنا شروع کر دیا اور سپیکر کے سامنے جمع ہو گئے۔ حزب اختلاف کے احتجاج کی وجہ سے سپیکر نے کارروائی موخر کر دی اور حکومت کی طرف سے انشورنس کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کے بارے میں مسودۂ قانون بھی پیش نہیں کیا جا سکا۔
ملک میں انشورنس کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کو 26 فیصد سے بڑھا کر 49 فیصد تک کرنے کا مسودۂ قانون ایوان میں ایک طویل عرصے سے زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ کوئلے کے شعبے میں اصلاحات کے بارے میں بھی ایک بل منگل کو ختم ہونے والے موسم سرما کے اجلاس میں منظور کیے جانے کی توقع تھی۔
بظاہر ان دونوں قوانین کو پارلیمان سے منظور کروانے میں حکومت کو کوئی دقت درپیش نہیں آنی چاہیے تھی لیکن اس تازہ قضیے نے پارلیمان کی معمول کی کارروائی میں تعطل پیدا کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دائیں بازو کی تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ کے سربراہ کے حالیہ بیان نے کہ انڈیا ہندوؤں کا ملک ہے، ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے پارلیمان کے ایوان بالا میں جہاں مودی سرکار کو اکثریت حاصل نہیں ہے، وہاں حزب اختلاف کی طرف سے سرکاری قانون سازی میں کسی قسم کے تعاون کا امکان بھی معدوم ہو گیا ہے۔
بہار کی ریاست میں قائد حزب اختلاف نتیش کمار نے نئی دہلی میں ایک بڑے عوامی اجتماع میں مذہب کی زبردستی تبدیلی کی مہم کو معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اس اہم معاملے کو سلجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور یہ قوم کو تقسیم کر کے لوگوں کی توجہ مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی طرف سے اس بارے میں موثر اقدامات نہ اٹھائے جانے کی وجہ سے رد عمل کا سامنا ہے۔ مودی حکومت کی اسی خاموشی کی وجہ سے سخت گیر ہندو تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور وہ اپنے کٹر ہندو ایجنڈے کو آزادی سے آ گے بڑھا رہی ہیں جس سے بھارت کی سیکیولر نظریے پر استوار بنیادوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں یہ تنازع اس وقت یہ شروع ہوا جب مسلمانوں کے ایک گروہ نے شکایت کی کہ انھیں دھوکے سے ایک اجتماع میں مدعو کر کے مذہب کی تبدیلی پر مجبور کیا گیا۔
حکمران جماعت کے ایک ہندو مذہبی پیشوا نے عیسائیوں کے تہوار کرسمس کے موقعے پر مذہب کی اجتماعی تبدیلی کی ایک تقریب منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس کو اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔







