’قصورواروں کو افضل کی طرح پھانسی پر لٹکاؤ‘

تین نومبر کو دو نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف چار روز تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتین نومبر کو دو نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف چار روز تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فوج نے دو نوجوانوں کی ہلاکت میں نو اہلکاروں کو قصوروار ٹھہرایا ہے لیکن متاثرین کے مطابق وہ مکمل انصاف چاہتے ہیں۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں چند ہفتے قبل فوج نے چیک پوائنٹ کے قریب ایک کار پر فائرنگ کی جس میں دو نوجوان مارے گئے۔

جمعرات کوسری نگر میں فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس واقعہ کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور افسر سمیت نو فوجی اہلکاروں کو قصور وار قرار دے کر ان کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی ہے۔

اس سفارش پر جموں میں تعینات فوج کی شمالی کمان عنقریب فیصلہ صادر کرے گی۔

گذشتہ 25 برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ فوج نے ایسی کسی واردات میں تین ہفتوں کے اندر اندر تحقیقات مکمل کی ہیں۔

لیکن متاثرین کہتے ہیں کہ قصوروار فوجیوں کو عوام کے سامنے لایا جائے اور سول عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا جائے۔

تاہم آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ جیسے سخت فوجی قانون کی رُو سے قصوروار فوجیوں کا قانونی مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوگام میں مقیم مارے گئے نوجوانوں کے اہل خانہ کو مکمل انصاف کی امید نہیں ہے۔

فائرنگ میں مارے گئے14 سالہ فیصل یوسف کے والد محمد یوسف نے تحقیقات کو ریکارڑ مدت میں مکمل کرنے کے لیے فوج کا شکریہ ادا کیا لیکن وہ کورٹ مارشل کو کوئی انصاف نہیں مانتے۔

انھوں نے فوج کے تازہ اعلان سے متعلق کہا: ’اگر یہ لوگ خود مانتے ہیں کہ ہمارے نہتے بچوں پر نو فوجیوں نے فائرنگ کی، تو ان قصورواروں کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے لایا جائے۔ پھر ان کے خلاف یہاں کی عوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ ہم کو نقد معاوضہ یا ہمدردی کے بیانات نہیں مکمل انصاف چاہیے۔‘

محمد یوسف کہتے ہیں: ’ہم کو تو انصاف نظر نہیں آتا۔ قصورواروں کی تصویر اخبار میں چھپتی، ٹی وی پر ان کا انٹرویو نشر ہوتا ، تو پتہ چلتا کہ ہاں گنہگار کو پہچان لیا گیا۔ ایسے کیسے مان لیں ہم کہ انصاف ہوگیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ’افضل گورو کی تصویر تو ہر اخبار میں چھپتی تھی، ہر ٹی وی پر ان کو دکھایا گیا۔ ہم کہتے ہیں ہمارے معصوم بچوں کو جن فوجیوں نے مارا ہے انھیں اسی طرح پھانسی پر لٹکایا جائے جس طرح افضل گورو کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔‘

گذشتہ 25 برس میں یہ پہلاموقعہ ہے کہ فوج نے ایسی کسی واردات میں تین ہفتوں کے اندر اندر تحقیقات مکمل کی ہوں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ 25 برس میں یہ پہلاموقعہ ہے کہ فوج نے ایسی کسی واردات میں تین ہفتوں کے اندر اندر تحقیقات مکمل کی ہوں

واضح رہے تین نومبر کی شب سری نگر کے نواحی علاقے نوگام کے رہنے والے پانچ دوست ایک کار میں عاشورہ کی مجلس میں شرکت کے لیے گئے تھے۔

ضلع بڈگام کے چھیترگام میں ہوئی اس مجلس سے واپسی کے دوران ایک فوجی چیک پوائنٹ پر فوجی اہلکاروں نے کار پر فائرنگ کی جس میں 14 سالہ فیصل برہان اور 21 سالہ معراج مارے گئے۔ اس واقعے کے خلاف چار روز تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

اس واقعہ میں مارے گئے 21 سالہ معراج کی بہن اریبہ کہتی ہیں:’ہمارے بھائیوں کی تصویریں تو اخباروں میں شائع ہوتی ہیں۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے اور خود فوج کہتی ہے کہ انھوں نے جرم کیا ہے، تو ان کا نام کیا ہے، وہ کہاں کے رہنے والے ہیں۔ ان کی تصویریں اخباروں میں کیوں نہیں؟‘

اریبہ کہتی ہیں کہ 2010 میں فرضی تصادم کی تحقیقات کے بعد بعض فوجیوں کو عمرقید کی سزا دی گئی، تو امید کی کرن نظر آئی کہ انصاف ملے گا، لیکن جن فوجیوں کو سزا دی جاتی ہے ان کی شناخت خفیہ رکھی جاتی ہے، اور نہ بتایا جاتا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔‘

واضح رہے سنہ 2010 میں ایک فرضی تصادم میں فوج نے تین نوجوانوں کا قتل کیا تھا۔ اس سلسلے میں حالیہ دنوں فوج کی ایک عدالت نے پانچ اہلکاروں کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔