والی بال میچ پر خودکش حملہ، 45 افراد ہلاک 60 زخمی

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان کے صوبے پکتیکا میں ایک والی بال میچ میں خود کش حملے میں کم از کم 45 افراد ہلاک اور60 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
ملک کے مشرقی صوبے پکتیکا کے گورنر نے بی بی سی کے نمائندے رچرڈ گیلپن کو بتایا کہ یہ خود کش حملے والی بال میچ دیکھنے کے لیے جمع ہجوم کے درمیان کیا گیا۔
حملے کے فوری بعد گورنر کے ترجمان نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 اور زخمیوں کی تعداد 50 بتائی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ترجمان نے کہا کہ 45 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوئے ہیں۔
خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ بعض زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ہپستالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پکتیکا صوبے کے گورنر کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ حملہ یحییٰ خیلی ضلع میں بین الاضلاعی ٹورنامنٹ کے دوران ہوا جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
اے پی نےبھی حملے میں 45 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے زخمیوں کی تعداد 70 بتائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
عینی شاہدین کے مطابق خود کش آور حملہ ٹہلتا ہوا شائقین میں شامل ہو گیا اور اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔
حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں جو والی بال میچوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پکتیکا کے گورنر نے شدید زخمیوں کو کابل منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجنے کی درخواست کی ہے۔
ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کے نامہ نگار کو فون پر روتے ہوئے بتایا کہ انھیں زخمی بچوں کا علاج کرنا پڑا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کئی زخمی ہپستال کے راستے میں دم توڑ گئے۔
صدر اشرف غنی نے اس واقع کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ایک نفرت انگیز کارروائی قرار دیا ہے۔
یہ حملہ نیٹو اور امریکی فوجوں کے افغانستان سے مکمل انخلاء کو ایک سال کے لیے موخر کرنے کے معاہدے کی افغان پارلیمان کے ایوان زیرین کی طرف سے توثیق کے بعد ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس معاہدے کے تحت بارہ ہزار کے قریب نیٹو اور امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے۔ ان کا کام افغان فوجیوں کی تربیت اور افغان فوج کو مختلف کارروائیوں میں مشورے اور معاونت فراہم کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ مزید امریکی فوجی دستے بھی افغانستان میں تعینات رہیں گے جن کا کام القاعدہ کے بچے کچے عناصر کے خلاف کارروائیاں کرنا ہوگا۔
امریکی صدر اوباما نے ہفتے کو افغانستان میں موجود امریکی فوج کے لیے نئی پالیسی جاری کی جس کے تحت امریکی فوج طالبان کے خلاف کارروائیوں میں بھی حصہ لے سکے گی اور افغان سکیورٹی فورس کو اس قسم کی کارروائیوں میں فضائی مدد بھی فراہم کرے گی۔







