’کھیتوں میں نقلی شیر سے ہاتھی نہیں ڈرے‘

 نقلی شیروں کی وجے سے بندر تو کھیتوں سے دور رہنے لگے ہیں لیکن ہاتھی ابھی بھی بلا خوف آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشن نقلی شیروں کی وجے سے بندر تو کھیتوں سے دور رہنے لگے ہیں لیکن ہاتھی ابھی بھی بلا خوف آتے ہیں

بھارت کی ریاست تامل ناڈو میں کسانوں نے ہاتھیوں کو کھیتوں سے دور رکھنے کے لیے نقلی شیروں کوکھیتوں میں رکھنے کا طریقہ اختیار کیا لیکن یہ بھی ہاتھیوں کو ڈرانے میں کارگر ثابت نہ ہو سکا۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ نقلی شیروں کی وجہ سے بندر تو کھیتوں سے دور رہنے لگے ہیں لیکن ہاتھی ابھی بھی بلا خوف کھیتوں میں آ کر فصلوں کو خراب کر جاتے ہیں۔

نقلی شیروں کو کرشناگری ضلع کی زمینوں پر رکھا جا رہا ہے۔

بھارت میں کئی جگہ لوگ ہاتھیوں کی پوجا کرتے ہیں۔

جنگلوں کی کٹائی کی وجہ سے جنگلی حیات کے لیے جگہ تنگ ہوجانے کے باعث بھارت میں 26000 جنگلی ہاتھیوں اور انسانوں کے درمیان تنازعہ بڑھ رہا ہے۔

ہاتھی پانی کی تالاش میں دہات میں آکر فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAM SHUDHGAR

،تصویر کا کیپشنہاتھی پانی کی تالاش میں دہات میں آکر فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں

کرشناگری کے کسانوں نے نقلی شیروں خرید کر انھیں ناریل اور گنے کے کھیتوں میں رکھ دیا تاکہ پاس کے بنرگھٹا جنگلوں میں پائے جانے والے ہاتھیوں کو کھیتوں سے دور رکھا جائے۔

ایک دیہاتی راماکرشنا کا کہنا تھا کہ: ’ابھی تو ان نقلی شیروں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ کچھ ہاتھیوں نے تو ان شیروں کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔ لیکن ہم ان نقلی شیروں کو وہاں پر رکھتے رہیں گے۔‘

ایک اور کسان شیوا کمار کا کہنا ہے کہ نقلی شیروں کی وجہ سے ان کے ناریل کے کھیت بندروں کے ہاتھوں محفوظ رہے۔

انپوں نے کہا: ان کھلونوں کی وجہ سے میں اس موسم میں مجھے 1000 ناریل کی بچت ہوئی ہے۔‘

وائلڈ لائف اہلکار ونے لوتھرا کا کہنا ہے کہ ہاتھی اپنی رہنے کی جگوں سے باہر پانی کی تلاش میں دیہات کا رخ کرتے ہیں اور وہاں آکر فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔