’میں تو صرف مسکرا رہا ہوں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت میں آج کل بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے کی تیاری ہے جو کچھ لوگوں نے غیر قانونی طور پر غیر ملکی بینکوں میں جمع کر رکھا ہے۔
یہ بی جے پی کی حکومت کا وعدہ تھا اور اب لگتا ہے کہ کچھ نام منظر عام پر آنے والے ہیں۔
کہا جارہا ہے کہ جو نام ظاہر کیے جا سکتے ہیں ان میں کانگریس کی قیادت والی سابقہ حکومت کے چار رہنما بھی شامل ہیں۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق جب یہ نام ظاہر ہوں گے تو کانگریس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جب ان سے اس قیاس آرائی کے بارے میں پوچھا گیا کہ فہرست میں کانگریس کے رہنما بھی شامل ہیں تو انھوں نے جواب دیا: ’نہ میں اس کی تصدیق کر رہا ہوں، نہ تردید، میں تو صرف مسکرا رہا ہوں!‘
وزیر خزانہ سے کیا چھپا ہے؟ لیکن جب انھوں نے شرمندگی کی بات کہی تو کہیں اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ رقم اتنی کم ہے کہ ان رہنماؤں کو شرمندگی ہوگی، وہ کسی سے آنکھیں ملانے کے لائق نہیں رہیں گے؟
لوگ کیا کہیں گے، معاشرے میں کیا عزت باقی رہ جائے گی کہ سوئس بینک میں اکاؤنٹ بھی کھولا، وہ بھی اتنی سی رقم کے لیے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
اس سے زیادہ رقم تو سابق وزیرِ مواصلات سکھ رام کے گھر میں سی بی آئی کو یہاں وہاں پڑی ملی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1996 میں جب سکھ رام کے گھر چھاپا پڑا تو کانگریس بر سر اقتدار تھی۔
بی جے پی نے ٹیلی کام کے شعبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پارلیمان کی کارروائی نہیں چلنے دی تھی کیونکہ پارٹی اپنے اصولوں سے نہ اب سمجھوتہ کرتی ہے اور نہ پہلے کرتی تھی۔
لیکن وقت ہے کہ بدلتا رہتا ہے۔ دو سال بعد ہماچل پردیش میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہوئے، بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے بس تھوڑے سے سہارے کی ضرورت تھی اور اس نے وہی کیا جو کسی بھی ذمے دار سیاسی جماعت کو کرنا چاہیے تھا، اس نے سکھ رام سے ہاتھ ملا لیا۔
لیکن سیاست میں یہ سب چلتا رہتا ہے۔ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کالا دھن ملک سے اگر باہر جاتا ہےتو ملک کے لیے یہ اچھی بات ہے یا خراب؟ ملک کو صاف ستھرا بنانا ہے تو یہ تو اچھا ہی ہے کہ ناجائز آمدنی سے نجات حاصل کی جائے لیکن لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ملک کے اندر جو کالا دھن ہے اس کا کیا کریں گے؟

مثال کے طور پر اس شخص سے کون سوال پوچھے گا کہ جس کے گھر میں تین بڑی گاڑیاں ہیں اور جو ہنی مون کے لیے سوئٹزر لینڈ گیا تھا لیکن جس کی سالانہ آمدنی صرف دو لاکھ دس ہزار روپے ہے؟
دہلی کی ایک عدالت نے اس شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی کو گزر بسر کے لیے 50 ہزار روپے ماہانہ ادا کرے کیونکہ اس کے رہن سہن سے واضح ہے کہ وہ اپنی اصل آمدنی چھپا رہا ہے۔
آپ کو شاید یہ سن کر بھی حیرت ہوگی کہ اس سال سوئٹزر لینڈ سے 17 کھرب روپے کا سونا بھارت لایا جا چکا ہے۔
تجزیہ نگار پوچھ رہے ہیں کہ کہیں ایک نئی چمک کے ساتھ یہ وہ کالا دھن ہی تو نہیں ہے جسے واپس لانے کا وعدہ کیا گیا تھا؟







