پاکستانی گولف ٹیم کو سری نگر میں بچا لیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سری نگر کے سیلاب زدہ علاقے سے 28 رکنی پاکستانی گولف ٹیم اور نیپال کے مندوبین کی ایک ٹیم کو بچا لیا ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق فوجی اہلکار نے بتایا کہ پاکستانی گولف ٹیم جنوبی ایشیائی ممالک کی علاقائی تعاون تنظیم سارک کے تحت منعقد کیے جانے والے ایک گولف ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے سری نگر آئی ہوئی تھی، جبکہ 17 رکنی نیپالی وفد ایک سرکاری دورے پر وہاں آیا ہوا تھا جس میں نیپال کے سفیر بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کے زیر انتظام کشمیر ان دنوں تباہ کن سیلاب کی زد میں ہیں اور وہاں زبردست جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں، ٹیلی مواصلات کا نظام درہم برہم ہے اور اشیائے خوردنی اور پینے کے پانی کی کمی باعث تشویش ہے۔
بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کے مطابق سری نگر کے ایک ہوٹل میں پاکستان کی ایک 28 رکنی ٹیم پھنسی ہوئی تھی جس میں مردوں اور خواتین کے ساتھ ایک دس سالہ بچی اقصیٰ جمشید بھی تھی۔
اطلاعات کے مطابق گذشتہ 50 سال میں آنے والے اس سب سے زیادہ تباہ کن سیلاب میں اب تک بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بی بی سی کے نمائندے فیصل علی کے مطابق سیلاب سے علاقے کے 2500 گاؤں متاثر ہوئے ہیں جبکہ 450 گاؤں پوری طرح سے غرقاب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
امدادی کاموں میں بھارتی فوج نے 20 ہزار سے زیادہ جوان تعینات کر رکھے ہیں اس کے علاہ 79 طیارے لوگوں کو بچانے اور انھیں اشیائے خوردنی فراہم کرانے میں لگے ہیں۔
بھارتی اخبار کے مطابق سارک ٹورنامنٹ کے رد کیے جانے کے بعد پاکستانی ٹیم کو بچا کر سری نگر کے بادامی باغ کینٹونمنٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے انھیں لاہور بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے جبکہ فوج نے ان کے پاسپورٹ کی تفصیلات درج کر لی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار کے مطابق ٹیم کے اراکین نے اس غیر متوقع امداد کے لیے بھارتی فوج کا شکریہ ادا کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اخبار کے مطابق لاہور کینٹونمنٹ کے طارق ملک نے کہا: ’عام طور پر بھارتی فوج کے بارے لوگوں کا خیال دوسری طرح کا ہے لیکن جس ترتیب کے ساتھ ہمیں وہاں سے نکالا گیا ہےاس کے لیے ہم اس کے شکر گزار ہیں۔‘
دہلی میں وزارت دفاع کی ایک پریس ریلیز کے مطابق مسلح افواج اور ڈی آر ایف نے ابھی تک 47 ہزار سے زیادہ لوگوں کو بچایا ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ غذائی قلت کے پیش نظر دہلی، احمد آباد اور حیدرآباد جیسے شہروں سے بڑے پیمانے پر کشمیر کے لیے پکے ہوئے کھانے روانہ کیے جا رہے ہیں۔







