تین ہفتے میں ووٹوں کی مکمل پڑتال کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAP
افغانستان میں الیکشن کمیشن کے سربراہ نے صدارتی انتخاب کے دوران تین ہزار پولنگ مراکز پر ڈالے گئے 80 لاکھ ووٹوں کی پڑتال کا کام تین ہفتے میں مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے سربراہ احمد یوسف نورستانی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ چودہ جون کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں ڈالے گئے ووٹوں کی پڑتال کے لیے الیکشن کمیشن نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
نورستانی نے کہا کہ پڑتال کرنے والے عملے کی تربیت کے بعد ووٹوں کی پڑتال کا کام دونوں امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی میں شروع کیا جائے گا۔
گذشتہ روز کابل میں افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی سے بات چیت کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ تمام 80 لاکھ ووٹوں کی جانچ پڑتال 24 گھنٹوں کے اندر اندر شروع کر دی جائے گی۔
انھوں نے کہا تھا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جائے گی جس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
دونوں امیدواروں نے ا س بات پر بھی اتفاق کر لیاہے کہ ان میں سے جو بھی صدر بن جائے وہ جلد ہی قومی اتحاد والی حکومت بنائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کابل میں کی جائے گی جہاں نیٹو کی نگرانی میں صوبوں سے تمام ووٹوں کو لایا جائے گا۔
اس سے پہلے کابل میں سنیچر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے افغانستان میں صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کے لیے سارا دن مشکل اور پیچیدہ مذاکرات میں گزارا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابل میں امریکی سفارت خانے میں جان کیری نے سابق وزیر خزانہ اشرف غنی احمد زئی اور وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
ان مذاکرات کا محور اقوام متحدہ کی طرف سے گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی پڑتال تھا۔
افغانستان کے صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران نے صدر اوباما کی غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد کابل میں ایک مستحکم حکومت چھوڑ کر جانے کی حکمت عملی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
دوسرے مرحلے کے انتخابات میں اشرف غنی کو اپنے مد مقابل عبداللہ عبداللہ پر واضح برتری حاصل تھی۔
عبداللہ عبداللہ نے جو شمالی اتحاد کی طرف سے اہم امیدوار ہیں ان انتخابات میں بے قاعدگیوں کے الزامات لگاتے ہوئے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔







