افغان صدارتی امیدوار ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر متفق

ووٹوں کی دوبارہ گنتی کابل میں کی جائے گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنووٹوں کی دوبارہ گنتی کابل میں کی جائے گی

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ دونوں افغان صدارتی امیدواروں نے گذشتہ ماہ ہونے والے دوسرے مرحلے کے صدارتی انتخابات میں ڈالے جانے ووٹوں کی مکمل دوبارہ گنتی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

کابل میں افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی سے بات چیت کے بعد جان کیری نے کہا کہ تمام 80 لاکھ ووٹوں کی جانچ پڑتال 24 گھنٹوں کے اندر اندر شروع کر دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جائے گی جس پر کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

دونوں امیدواروں نے ا س بات پر بھی اتفاق کر لیاہے کہ ان میں سے جو بھی صدر بن جائے وہ جلد ہی قومی اتحاد والی حکومت بنائیں گے۔

عبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعبداللہ عبداللہ نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا

خیال رہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کابل میں کی جائے گی جہاں نیٹو کی نگرانی میں صوبوں سے تمام ووٹوں کو لایا جائے گا۔

اس سے پہلے کابل میں سنیچر کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے افغانستان میں صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کے لیے سارا دن مشکل اور پیچیدہ مذاکرات میں گزار۔

کابل میں امریکی سفارت خانے میں جان کیری نے سابق وزیر خزانہ اشرف غنی احمد زئی اور وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔

ان مذاکرات کا محور اقوام متحدہ کی طرف سے گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی پڑتال تھا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اقوام متحدہ سے ووٹوں کی پڑتال کرانے کی تجویز میں وجہ نزاع کیا تھا۔

بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق مذاکرات کے بعد بلائی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس تین گھنٹے کی تاخیر کرنی پڑی۔

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران نے صدر اوباما کی غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد کابل میں ایک مستحکم حکومت چھوڑ کر جانے کی حکمت عملی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

دوسرے مرحلے کے انتخابات میں اشرف غنی کو اپنے مد مقابل عبداللہ عبداللہ پر واضح برتری حاصل تھی۔

عبداللہ عبداللہ نے جو شمالی اتحاد کی طرف سے اہم امیدوار ہیں ان انتخابات میں بے قاعدگیوں کے الزامات لگاتے ہوئے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔