بھارتی ڈیموں سے پانی کے اخراج سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, جے معزومدار
- عہدہ, دہلی
بھارت میں بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ملک کے ڈیم مانگ کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے لیے دریاؤں میں بڑی مقدار میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے پانی چھوڑ دیتے ہیں جس سے زریں علاقوں میں لوگوں کی جانوں کو اکثر خطرہ لا حق ہوتا ہے۔
جون کے اوائل میں بجلی پیدا کرنے والے لارجی ہاڈرو پاؤر پروجیکٹ کے ڈیم سے شمالی ہماچل پردیش کے دریائے بیاس میں بڑے مقدار میں پانی کے اخراج کی وجہ سے سیاحتی سفر پر آنے والے کالج کے 20 سے زائد طلبا ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔
اس واقعے کے دو ہفتے بعد ملک کی مشرقی ریاست جارا کھنڈ میں دریائے دامودار میں زیادہ پانی کے اخراج سے 10 سے زائد افراد 12 گھنٹوں سے زائد وقت تک پانی میں پھنسے رہے جس کے بعد انھیں بچا لیا گیا۔
یہ افراد گرمی میں کرکٹ کا میچ کھیلنے کے بعد دریا میں نہا رہے تھے کہ دریا کے بالائی حصے میں واقع تینوگھاٹ ڈیم سے پانی چھوڑ دیا گیا جس کی وجہ سے وہ پانی کے بہاؤ کو کم کرنے کے لیے بنائی گئی ایک بند سے چمٹ گئے اور وہاں گھنٹوں پھنسے رہے۔
ان میں سے ایک نے تیر کر دریا پار کیا اور نزدیک گاؤں والوں سے مدد مانگی جبکہ باقی افراد رات گئے تک مدد کے منتظر رہے۔ لیکن بہت کم لوگ ہی اتنے خوش قسمت ہوتے ہیں جو بچ جاتے ہیں۔
پانی میں ڈوبنے کے واقعات
- دریائے بیاس میں طلبا کا ڈوبنا گذشتہ ایک دہائی میں دسواں اور سنہ 2011 سے اب تک چھٹا ایسا واقعہ ہے۔
- 18 اپریل کو سیکم کے علاقے باردانگ میں دریائے تیستا میں تین لڑکیاں نہا رہی تھیں جو ایک ہاڈرو پاؤر پلانٹ کے پانی کے ذخیرے سے خارج ہونے والے پانی میں بہہ گئیں۔ ان میں سے دو کو بچا لیا گیا جبکہ 11 سالہ تیسری لڑکی کی لاش بھی نہیں ملی۔
- 27 مارچ سنہ 2013 کو تامل ناڈو کے علاقے اپیوپالم کے قریب بھوانی دریا میں اچانک پانی کے زیادہ اخراج سے ایک خاندان کے پانچ افراد نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔دریا میں بجلی پیدا کرنے کے پیلور ڈیم سے وافر مقدار میں پانی چھوڑ دیا گیا تھا۔ واحد بچ جانے والے شخص نے بتایا کہ جب وہ دریا میں اتر رہے تھے تو اس وقت پانی گھٹنوں تک تھا۔
- تامل ناڈو ہی میں آٹھ جنوری سنہ 2012 کو اریوڈ میں کاویری دریا میں دو مختلف واقعات میں نو افراد اس وقت ڈوب گئے جب دریا میں ویندی پالایم بھوانی کٹالیا بیراج سے 8000 کیوسک پانی خارج کیا گیا۔
- کرناٹکا میں چھ دسمبر سنہ 2011 کو شامبہور ہاڈرو پاؤر پراجیکٹ سے بنٹوال کے قریب دریائے نیٹراواتی میں اچانک پانی کے اخراج سے تین آدمی ڈوب گئے۔مقامی لوگوں کے مطابق پاؤر پراجیکٹ سے پانی کے اخراج کی وجہ سے سنہ 2009 سے اب تک نو دیگر افراد بھی ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔
- اتراکھنڈ میں بھاگیراتی دریا پر مانیری بھالی ہاڈل پرجیکٹ سے بغیر پیشگی اطلاع کے پانی کے اخراج کی وجہ سے سنہ 2006 ، سنہ 2007 اور سنہ 2011 میں مختلف واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔
- مدھیا پردیش میں یکم اکتوبر سنہ 2006 کو دتیا ضلع میں دریائے سندھ کو پار کرتے ہوئے کم از کم 75 زائرین بہہ گئے۔ اس واقعے کی وجہ شیوپوری ضلع میں واقع مانی کھیدا ڈیم سے بڑی مقدار میں پانی کا اخراج تھا۔
- مدھیا پردیش ہی میں سات اپریل سنہ 2005 کو دھارجی میں دریائے نرمدہ میں 70 سے زائد زائرین اس وقت ڈوب کر ہلاک ہو گئے جب دریا میں اندرھا ساگر پاؤر پروجیکٹ سے پانی خارج کیا گیا۔ڈوبنے والے افراد ان ہزاروں لوگوں میں سے تھے جو ایک سالانہ مذہبی تہوار کے لیے دریا کے کنارے جمع تھے۔
یہ تمام واقعات ایسے اوقات میں ہوئے جب بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیموں سے وافر مقدار میں پانی چھوڑا گیا۔ عام طور پر شام کے اوقات میں یا پھر دن کے وقت میں بھی بجلی کی مانگ بڑھ جاتی ہے جس کا انحصار بجلی کی ترسیل کرنے والے متعلقہ گرِڈ سٹیشن پر ہوتا ہے۔
ڈیموں سے پانی کے اخراج کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے یا خبردار کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے زیریں علاقوں میں دریاؤں میں پانی کا لوگوں کو اچانک آ لینے کا خطرہ رہتا ہے اور پانی کے اس اچانک اخراج سے دریا منٹوں میں بھر جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں لاکھوں افراد اپنے روزگار اور روز مرہ ضروریات کے حوالے سے دریاؤں پر انحصار کرتے ہیں لیکن یہ ایک چھوٹا سا معجزہ ہی ہے کہ اب تک صرف اتنی ہی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ حکام اس معاملے سے لاتعلق ہیں۔ بھارت کی پانی و بجلی کی وفاقی وزارت نے اس معاملے سے متعلق اس نامہ نگار کے ٹیلیفون کالوں اور ای میلوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
کرناٹکا میں سنہ 2011 میں بنٹوال کے قریب ہونے والے واقعے کے بعد ڈیم کے حکام نے کہا تھا کہ ان کا دریا میں پانی کی وافر مقدار میں چھوڑے جانے کی وجہ سے ڈوبنے والے افراد کی اموات سے کوئی لینا دینا نہیں اور انھوں نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ دینے سے انکار کر دیا۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ وہ اس وقت ڈیم سے پانی کے اخراج سے متعلق پیشگی اطلاع دینے کا نظام رائج نہیں کریں گے جب تک ضلعی انتظامیہ کی طرف سے انھیں ہدایت نہیں ملتی۔
ملک کی شمال مشرقی ریاست میں رانگدانی ڈیم سے اچانک پانی کے اخراج سے جب درجنوں مال مویشی بہہ گئے تو ڈیم کے حکام نے جون سنہ 2006 میں ایک سرکاری پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’ڈیم سے مختلف اوقات میں پانی کو خارج کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے کمپنی کسی بھی انسانی جان، مال مویشی، پالتو جانور اور جائداد کو پانی سے نقصان پہنچنے کی ذمہ دار نہیں ہوگی۔‘
لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ہائڈل پاؤر یا پن بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو اس سلسلے میں ذمہ داری لینی چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہParomita Chatterjee l Agency Genesis
جنوبی ایشیا میں ڈیموں پر نیٹ ورک کے رابطہ کار ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک آن ڈیم کے کور ڈینیٹر ہمان شیو ٹھاکر کہتے ہیں کہ ’بجلی پیدا کرنے کے ہر پراجیکٹ کو عوامی سطح پر کام کرنے کے لیے ایک واضح طریقۂ کار وضع کرنا چاہیے جس میں وہ اس بات کو مدِ نظر رکھے کہ ایک ہی دریا پر بجلی پیدا کرنے کے پراجیکٹ ایک دوسرے پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کمپنیوں کو ایک گھنٹے میں پانی کے مقدار کا ڈیٹا روزانہ جاری کرنا چاہیے اور پانی کے اخراج کے ممکنہ اوقات اور پانی کی سطح دریاؤں کے کناروں پر لکھنا چاہیے۔ پانی خارج کرنے سے پہلے ڈیم کے حکام کو مقامی انتظامیہ کو خبردار کرنا چاہیے اور انھیں لوگوں کو پانی کے اخراج سے خبردار کرنے کے لیے سائرن اور سیٹیاں لگانی چاہیے۔‘
بیالوجی کے ماہر لاکھی پرساد ہازریکا کہتے ہیں کہ ’بجلی کی کمپنیاں کم از کم انسانی جانیں تو بچا سکتی ہیں۔ جبکہ پانی کے بے ترتیب اخراج سے مچھلی، زراعت، چراہ گاہیں جیسے روزگار کے ذرائع بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔‘
ہمان شیو ٹھاکر کہتے ہیں کہ ڈیموں کی منصبوبہ بندی کے وقت ایسے تباہیوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بجلی پیدا کرنے کے پراجیکٹ صرف مناسب پہاڑی علاقوں میں شروع کرنے چاہیے اور اس کی میدانی علاقوں میں بالکل اجازت نہیں دینی چاہیے جہاں سیلاب کا خطرہ اور جہاں حیاتیاتی تنوع ہو۔‘







