دریائے بیاس میں ڈوبنے والے 19 طلبا کی لاشیں ابھی تک لاپتہ

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع منڈی میں دریائے بیاس میں ڈوبنے والے 24 طلبا میں سے 19 کی لاشیں ابھی بھی لاپتہ ہیں۔
یہ طلبا جنوبی بھارت کے معروف شہر حیدرآباد سے تفریح کی غرض سے ضلع منڈی آئے تھے۔
اتوار کی شام پیش آنے والے حادثے کے بعد لاشوں کی تلاش کا مہم جاری ہے تاہم تلاش میں تاخیر کی وجہ سے لاپتہ طلبہ کے لواحقین میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔
منگل کو دن بھر جاری رہنے والی امدادی مہم میں صرف ایک لاش برآمد ہو سکی ہے۔ ایسے میں طلبہ کے والدین نے الزام لگایا ہے کہ ہماچل پردیش حکومت ہنگامی صورت حال کے تحت تیزی سے کام نہیں کر رہی۔
اس سے قبل منڈی کے ضلع مجسٹریٹ دیویش کمار نے بی بی سی کو بتایا: ’طالب علم دریائے بياس کے نزدیک فوٹوگرافی کر رہے تھے کہ لارجی بند سے اچانک پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے ان میں سے 24 دریا میں بہہ گئے۔‘
اب تک صرف پانچ لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ باقی ماندہ کے لیے تلاش جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
امدادی کارروائی میں سستی اور تاخیر کا سبب دریا کے پانی میں گندگی کا ہونا ہے اور اسی وجہ سے غوطہ خوروں کو پانی کے اندر کچھ بھی صاف نظر نہیں آر ہا ہے۔
غوطہ خوروں کا کہنا ہے کہ پانی کے اندر کم نظر آنے کی وجہ سے ان کے کسی پتھر سے ٹکرانے یا کیچڑ میں پھنسنے اور ان کی جان جانے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہر حال لاپتہ طلبہ کے اہل خانہ میں سخت غم و غصہ ہے۔
منڈی میں مقامی صحافی اشونی شرما کے مطابق جائے حادثہ کے دورے پر پہنچنے والے تلنگانہ کے وزیر این نرسمہا ریڈی نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم سے اس بارے میں بات کریں گے تاکہ یہاں مزید امداد اور فوجی بھیجے جائیں۔
ان کے علاوہ آندھرا پردیش کے وزیر صحت نے بھی وہاں کا دورہ کیا۔ ہماچل پردیش کے وزیر ٹرانسپورٹ جے ایس بالی نے بھی حکام کے ساتھ جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے۔
اخبار ’دی ہندو‘ کے مقامی مقامی صحافی کنور يوگیندر نے بتایا کہ منگل کی صبح ایک طالب علم دیواشیش بوس کی لاش دریا سے برآمد کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل انھوں نے بتایا تھا کہ ’61 سیاح منڈی سے منالی جا رہے تھے۔ شام کے وقت چھ سے سات بجے کے درمیان وہ دریا کے کنارے تصاویر اتار رہے تھے کہ اچانک پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے 18 لڑکے اور چھ لڑکیاں بہہ گئے۔‘
ان سب کے درمیان اس حادثے میں زندہ بچنے والے 24 طلبہ، ایک استاد، ان کا ایک بیٹا اور اس ٹور کا انتظام کرنے والی کمپنی کے چند ملازمین پیر کی شب ایک خصوصی طیارے سے حیدرآباد پہنچائے گئے۔
اس حادثے میں زندہ بچنے والے سجن پنوگتی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترا، تو وہاں لوگوں بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ ان میں طلبہ کے لواحقین، میڈیا، ریاستی حکومت کے وزیر، حکومت کے افسران اور دیگر لوگ تھے اور وہاں کا ماحول بہت جذباتی تھا۔







