بھارت کا اناج بھیجنے کے لیے بنگلہ دیش سے معاہدہ

تریپورہ کو ہر ماہ 33 ہزار میٹرک ٹن اناج کی ضرورت ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتریپورہ کو ہر ماہ 33 ہزار میٹرک ٹن اناج کی ضرورت ہوتی ہے

بنگلہ دیش نے اشوگنج بندرگاہ کے راستے بھارتی ریاست تریپورہ اناج بھیجنے کی بھارتی درخواست قبول کر لی ہے اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں میں معاہدہ ہو گیا ہے۔

تریپورہ حکومت کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی سے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آنے والے دو یا تین ہفتوں میں دس ہزار میٹرک ٹن اناج بنگلہ دیش کے راستے تریپورہ کے دارالحکومت اگرتلہ پہنچے گا۔

بی بی سی بنگلہ سروس کے نامہ نگار شبھوجيوتی گھوش کا کہنا ہے کہ تریپورہ میں ابھی جو اناج آتا ہے وہ گوہاٹی اور اگرتلہ کے درمیان ریل کے راستے سے آتا ہے۔ اسے تریپورہ کے لیے ’لائف لائن‘ کہا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اب اس ریل لائن کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور اس میں آٹھ مہینے لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کو موصولہ اطلاعات کے مطابق اس دوران ریل سروس بند رہے گی اور اسی سبب بھارت اگرتلہ اناج پہنچانے کے لیے متبادل راستے کی جستجو میں ہے، اور اس نے اس سلسلے بنگلہ دیش سے بات کی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آبی گزرگاہوں سے تریپورہ تک اناج پہنچانے کا معاہدہ ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگلے دو تین ہفتوں میں تجربے کے طور پر آندھرا پردیش سے دس ہزار میٹرک ٹن کی ایک کھیپ تریپورہ لے جائی جائے گی۔

تریپورہ کے پرنسپل سیکریٹری وجے كانت رائے نے بی بی سی کو بتایا: ’بھارتی وزارت خارجہ کا بنگلہ دیش کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے اور اناج کی پہلی کھیپ بنگلہ دیش میں میگھنا دریا پر واقع اشوگنج بندرگاہ کے ذریعے جولائی کے دوسرے ہفتے تک اگرتلہ پہنچ جائے گی۔‘

تریپورہ کو ہر ماہ 33 ہزار میٹرک ٹن اناج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں 1600 سے 1700 میٹرک ٹن گندم اور باقی ماندہ مقدار چاول کی ہوتی ہے۔

اس سے پہلے سنہ 2012 میں بنگلہ دیش نے اس راستے سے بھارت کو سامان لے جانے کی اجازت دی تھی جس کے ذریعہ تریپورہ کے پالاٹانا پاور پلانٹ میں بجلی کے وزنی آلات اور مشینیں بھیجی گئی تھیں۔