’شاید امریکہ کے ساتھ دشمنی کا درجہ تبدیل ہو جائے‘

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ افغانوں کو خود اپنے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کرے
،تصویر کا کیپشنماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ افغانوں کو خود اپنے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کرے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

افغان حکومت نے طالبان اور امریکہ کے درمیان یرغمال امریکی فوجی کی رہائی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے اور اندرون خانہ شاید یہی ردعمل پاکستان کا بھی ہے۔

قوی امکان ہے پاکستان اسے افغانستان کا اندرونی معاملہ قرار دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرے گا لیکن لگتا ہے کہ یرغمالوں کی رہائی کا معاہدہ طالبان اور امریکہ کے درمیان براستہ قطر ہی ہوا ہے۔

بظاہر قطر مذاکرات کی طرح پاکستان اور افغانستان دونوں ہی اس سے لاعلم رہے۔ افغانستان کا کہنا ہے کہ قیدی کسی تیسرے ملک کے حوالے کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

کابل کے حکمرانوں سے بات کرنے سے تو طالبان آج تک انکاری رہے ہیں لیکن پاکستان جس نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کو تازہ کارروائیوں کے ذریعے ناراض کر رکھا ہے، کیا افغان طالبان کی مبینہ مدد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے یا پھر یہ کام افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ کیا ہے؟

کئی ماہ کے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں 31 مئی کو 28 سالہ امریکی سارجنٹ بووی رابرٹ برگڈل کو تقریباً پانچ سال بعد طالبان کی قید سے رہائی ملی اور وہ اب جرمنی میں قائم امریکی ملٹری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اس فوجی کے بدلے امریکہ نے کیوبا کے جزیرے گوانتانامو بے سے پانچ افغان قیدیوں کو رہا کر کے انھیں قطر کے حوالے کیا ہے۔ وہ ایک سال تک بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔

قطر میں مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولوی نیک محمد نے بھی ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران نہ تو پاکستان اور نہ ہی افغانستان کو اس کا علم تھا: ’جب قیدیوں کا تبادلہ ہوگیا تو پھر یہ خبر عام کی گئی۔‘

یہ سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان پر دباؤ بڑھانے کی خاطرخاصے اقدامات کیے ہیں کہ وہ امریکیوں سے جاری مذاکرات میں اُسے اپنے ہر فیصلے سے آگاہ رکھیں۔ ان میں گذشتہ دنوں طالبان کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک طیب آغا کے دو بھائیوں کو پاکستان میں حراست میں لینا بھی شامل ہے۔

کئی ماہ کے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں 31 مئی کو 28 سالہ امریکی سارجنٹ بووی رابرٹ برگڈل کو تقریباً پانچ سال بعد طالبان کی قید سے رہائی ملی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکئی ماہ کے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں 31 مئی کو 28 سالہ امریکی سارجنٹ بووی رابرٹ برگڈل کو تقریباً پانچ سال بعد طالبان کی قید سے رہائی ملی

افغانستان میں طالبان امور کے ماہر نذر محمد مطمئن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں تازہ کارروائیوں سے اپنے آپ کو افغان طالبان سے دور کر رہا ہے۔ امریکی فوجی کے معاملے سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس اسلامی تحریک نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی کے بھی زیر اثر نہیں چاہے وہ امریکہ ہو یا پاکستان:

’نہ پاکستان اور نہ ہی طالبان ایک دوسرے کو ناراض کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو معلوم ہے کہ اس کے اس خطے میں قریبی اتحادی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جانتے ہیں کہ طالبان کو افغانستان کے مستقبل کی تصویر سے باہر کرنا ان کے مفادات کے لیے اچھا ہے۔‘

نذر محمد کہتے ہیں کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغان طالبان پر ضرورت سے زیادہ دباؤ انھیں پاکستانی طالبان کی صورت میں نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ ان دونوں شدت پسند تحریکوں کے آپس میں قریبی تعلقات ہیں۔

قطر میں مذاکرات کے بارے میں تازہ معلومات کے مطابق امریکیوں اور طالبان کے درمیان کہیں بھی براہ راست بات نہیں ہوئی۔ قطر کے حکام ہی چھ ماہ سے اس بابت مصروف رہے اور بالآخر کامیاب ہوئے۔

قطر میں مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولوی نیک محمد کے مطابق امریکی قیدی کے تبادلے کے لیے محض محدود وقت کے لیے خوست کے محدود علاقے میں جنگ بندی ہوئی تاکہ امریکی ہیلی کاپٹر میں آ کر ایک قبائلی سردار کے مکان سے اپنے ساتھی کو لے جائیں۔

قطر میں پہلے طالبان دفتر کے قیام اور مذاکرات کا اس وقت ایجنڈا بھی قیامِ امن اور قیدیوں کی رہائی تھا
،تصویر کا کیپشنقطر میں پہلے طالبان دفتر کے قیام اور مذاکرات کا اس وقت ایجنڈا بھی قیامِ امن اور قیدیوں کی رہائی تھا

اس تبادلے سے یہ تاثر بھی غلط ثابت ہوا ہے کہ قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان گذشتہ برس جون میں شروع کیا جانے والا مذاکراتی عمل ختم ہوگیا تھا۔ قطر اب بھی طالبان کے لیے موثر اور فعال ہے۔ قطر میں پہلے طالبان دفتر کے قیام اور مذاکرات کا اس وقت ایجنڈا بھی قیامِ امن اور قیدیوں کی رہائی تھا۔

نذر محمد مطمئن کہتے ہیں کہ اس کامیابی کے بعد امریکہ طالبان کے ساتھ اس مذاکراتی عمل کو شاید مزید آگے وسیع بنیادوں پر لے جانا چاہے گا۔

’اس بابت امریکی اعلان کہ وہ سنہ 2016 تک تمام فوجی افغانستان سے نکال دے گا، طالبان کو اس بات پر راضی کرنے میں مدد دے گا کہ وہ اسے اپنا دشمن تصور کرنے کا درجہ تبدیل کر دے۔ اس کے بعد افغان حکومت کا یہ جواز بھی ختم ہو جائے گا کہ طالبان مغرب کے دشمن ہیں اور بالآخر افغان حکومت سے بھی مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔‘

ایسے میں ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے فی الحال بہتر ہوگا کہ وہ براہِ راست مداخلت سے باز رہے اور افغانوں کو خود اپنے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کرے۔