کانگریس نےہار مان لی، بی جے پی بہت آگے

،تصویر کا ذریعہGetty
بھارتی پارلیمان کی 543 نشستوں کے لیے نو مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
ابھی تک جو رجحانات آئے ہیں ان کے مطابق حزبِ اختلاف کی جماعت بی جے پی برسر اقتدار کانگریس سے بہت آگے ہے، اور کانگریس نے مکمل نتائج آنے سے قبل ہی شکست تسلیم کر لی ہے۔
کانگریس کے ترجمان راجیو شکلا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم شکست تسلیم کرتے ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔‘
بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی دو حلقوں سے آگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنی ودوڈرا سیٹ چھوڑ دیں گے اور وارانسی سیٹ اپنے پاس رکھیں گے۔
اترپردیش میں امیٹھی سیٹ سے راہل گاندھی آگے ہیں اور سونیا گاندھی رائے بریلی میں اپنے قریب ترین حریف سے بہت آگے ہیں۔
بھارت میں کروڑوں ووٹوں کی گنتی کا عمل جمعے کی صبح شروع ہوا۔ اسی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا طویل انتخابی عمل اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان انتخابات میں برسرِ اقتدار کانگریس اتحاد اور حزب اختلاف کی اہم جماعت بی جے پی اور ان کی حلیف جماعتوں کے درمیان زبردست مقابلہ ہے۔
ووٹنگ کے فوراً بعد رائے عامہ کے اعداد و شمار (ایگزٹ پولز) کے مطابق وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی بھاری فتح کی پیش گوئی کی گئی تھی، لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایگزٹ پولز غلط بھی ثابت ہوئے ہیں۔
انتخابات میں جو پارٹی 272 نشستیں یا اس سے زیادہ حاصل کرے گی اسے ایوان میں اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ بے جے پی اتحاد میں کل 28 پارٹیاں شامل ہیں اور ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اتحاد 249 سے 340 سیٹیں جیت سکتا ہے۔
تمام تر ایگزٹ پولز نے بی جے پی کے لیے 200 سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی کی پیش گوئی کی ہے۔ بی جے پی کی اب تک کی بہترین کارکردگی 182 نشستیں رہی ہے۔ مودی اور بی جے پی کی جیت کے لیے جگہ جگہ مذہبی رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ
سات اپریل سے شروع ہو کر 12 مئی کو نو مراحل میں مکمل ہونے والی ووٹنگ کا یہ عمل دنیا کا سب سے بڑا انتخابی عمل تھا جس میں 55 کروڑ سے زیادہ شہریوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
ان 55 کروڑ شہریوں کے ووٹ 18 لاکھ ووٹنگ مشینوں میں بند ہیں جس کی گنتی صبح آٹھ بجے شروع ہوئی۔
بھارت کے الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار سب سے زیادہ 66.38 فیصد ووٹنگ ہوئی اور 1984 میں اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہونے والی 64 فیصد ووٹنگ کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار کل 55.1 کروڑ ووٹروں نے ووٹ ڈالا جو 2009 کے مقابلے 32 فیصد زیادہ ہے۔
اس بار کل ووٹروں کی تعداد 81 کروڑ سے زیادہ ( کل 81,45,91,184 ) تھی جو یورپی یونین کی پوری آبادی سے زیادہ ہے۔
اس بار 2,31,61,296 ووٹر 18-19 سال عمر کے تھے، جن میں سے 58.6 فیصد مرد ووٹر ہیں جبکہ 41.4 فیصد خواتین ووٹرز ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتخابی نتائج کی کنجی ان نئے ووٹروں کے ہاتھ میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انتخابات کے دوران تمام پارٹیوں نے نوجوان ووٹروں کو لبھانے کی ہر ممکن کوششیں کی ہیں۔ انتخابات کے نتائج یہ بھی بتائیں گے کہ بھارت کی اس نوجوان آبادی کے دل میں کیا ہے۔
بڑی ریاستوں میں اس بار مغربی بنگال (81.8 فیصد)، اوڈیشا (74.4 فیصد) اور آندھر پردیش (74.2 فیصد) میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔
تاہم انتخابی مبصرین کی نظریں سب سے اہم انتخابی ریاست اتر پردیش اور بہار پر مرکوز ہیں لیکن ان دونوں ہی ریاستوں میں اوسطاً کم ووٹنگ ہوئی ہے۔ یوپی میں 58.6 فیصد جبکہ بہار میں 56.5 فیصد پولنگ ہوئی۔
اس بار حکومت ہندوستان نے انتخابات پر کل 3426 کروڑ روپے خرچ کیے جو 2009 کے 1483 کروڑ روپے کے مقابلے 131 فیصد زیادہ ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 1952 میں ہونے والے پہلے لوک سبھا انتخابات میں صرف 10.45 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔







