شندے کی اپیل اور جیل سے بیوی کی انتخابی مہم

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

اب سب ٹھیک ہو جائے گا

آسام میں حال ہی میں مسلم کش حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنآسام میں حال ہی میں مسلم کش حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں

آسام میں قبائلی بوڈو انتہا پسندوں نے بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور اس حملے میں تیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے۔ بوڈو قبائلیوں کا الزام ہے کہ مسلمان بنگلہ دیش سے غیرقانونی طور پر آکر ان کے علاقوں میں آباد ہوگئے ہیں جو انھیں منظور نہیں۔

یہ تنازع پیچیدہ بھی ہے اور پرانا بھی لیکن اب سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ وفاقی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بوڈو قبائلیوں اور مسلمانوں سےقیام امن کی اپیل کی ہے۔

اب دونوں مل جل کر رہیں گے، جیسے اچھے ہمسایوں کو رہنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے گلوں میں ہاتھ ڈال کر گھومیں گے اور اپنے تہوار بھی مل کر ہی منائیں گے کیوں کس میں ہمت ہے کہ وزیرداخلہ کی اپیل پر عمل نہ کرے۔

جب انھوں نے حکم صادر کر دیا ہے کہ مل کر رہو تو بوڈو شدت پسندوں کے پاس دوسرا راستہ بھی کیا ہے؟ ان کے رہنما دشورا گزار گھنے جنگلات میں سر جوڑ کے بیٹھے ہوں گے، یہ طے کرنے کے لیے کہ اپنے اسلحے کا اب کیا کریں، اور شاید یہ بھی کہ نادانی میں جن لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوگیا ہے اس کی تلافی کیسے کی جائے؟

دوسرے فریق کے پاس کوئی دوسرا راستہ پہلے بھی نہیں تھا، اب بھی نہیں ہے۔

وزیر داخلہ نے ایک اور غیر معمولی انکشاف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد بوڈو علاقوں میں مذہبی منافرت پھیلانا ہے!

سشیل کمار شندے نے اپنے کریئر کا آغاز پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسشیل کمار شندے نے اپنے کریئر کا آغاز پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کیا تھا

اس ملک میں بہت سے لوگ بے وجہ سیاسی رہنماؤں کی قابلیت پر شک کرتے ہیں، لیکن وزیر داخلہ کو دیکھیے انھوں نے منٹوں میں پوری سازش بے نقاب کر دی۔ ورنہ کون سوچ سکتا تھا کہ اے کے رائفلوں سے لیس شدت پسند جب عورتوں اور معصوم کم سن بچوں پر فائرنگ کر رہے ہوں تو ان کے اتنے ناپاک ارادے بھی ہوسکتے ہیں۔

آپ کو شاید معلوم نہ ہو کہ مسٹر شندے نے اپنے کریئر کا آغاز پولیس کانسٹیبل کی حیثیت سے کیا تھا، شاید اسی لیے وہ انتی جلدی پیچیدہ سے پیچیدہ سازش کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں۔

آپ شاید کہیں گے کہ اپیلوں سے کیا ہوتا، جب دو ہزار بارہ میں اس علاقے میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے تب وزیر اعظم من موہن سنگھ نے بھی تو امن کی اپیل کی تھی؟

جواب بھی آپ کو معلوم ہی ہوگا۔ جب من موہن سنگھ کی بات کوئی اور نہیں سنتا تو بے چارے بوڈو شدت پسند ہی کیوں سنیں؟ اور مرنے والے تو اپنی خوشی سے مرتے نہیں ہیں، لہٰذا ان سے تو شکایت کرنا بےکار ہے۔

موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار کے آخری دو ہفتے کاٹ رہی ہے۔ شندے صاحب اگر مناسب سمجھیں تو ایک اپیل کشمیری علیحدگی پسندوں اور نکسلی باغیوں سے بھی کرتے جائیں تاکہ جو بھی نئی حکومت آئے اسے اندرون ملک امن و قانون کے کسی مسئلے کا سامنا نہ ہو۔

صرف فون لینے سے بھی کام چل جاتا!

شہاب الدین موبائل فون کے ذریعے جیل سے ہی اپنی بیوی کی انتخابی مہم چلا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشہاب الدین موبائل فون کے ذریعے جیل سے ہی اپنی بیوی کی انتخابی مہم چلا رہے تھے

بہار کے سیوان لوک سبھا حلقے سے حنا شہاب الدین انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ محمد شہاب الدین کی بیوی ہیں جن کی شجاعت کے قصے اس علاقے میں مشہور ہیں۔

انھیں کچھ چھوٹے موٹے اور کچھ ذرا سنگین الزامات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ کافی عرصے سے جیل میں ہیں۔

اب ریاستی حکومت نے انھیں سیوان کی جیل سے گیا سنٹرل جیل منتقل کردیا ہے کیونکہ سنا ہے کہ وہ موبائل فون کے ذریعے جیل سے ہی اپنی بیوی کی انتخابی مہم چلا رہے تھے اور بظاہر اپنے مخصوص انداز میں سیاسی حریفوں سے یہ ’اپیل‘ بھی کر رہے تھے کہ وہ ان کی اہلیہ کی مخالفت نہ کریں!

پولیس ان کی اس اپیل کو دھمکی بتا رہی ہے۔ بہرحال، کیا ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقل کرنے سے بہتر یہ نہیں ہوتا کہ شہاب الدین سے صرف ان کا موبائل فون لے لیا جاتا؟

اتنی سی بات تو مسٹر شندے پلک جھپکتے ہی بتا دیتے اور ہو سکتا ہے کہ ساتھ ہی شہاب الدین سے یہ اپیل بھی کر دیتے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کریں۔

شہاب الدین بھلے ہی عمر قید کاٹ رہے ہوں لیکن منتخب جمہوری اداروں اور جمہوریت کے تقاضوں میں ان کے یقین کامل کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ وہ پارلیمان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے اپنی اہلیہ کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔

مودی حکومت کا بلند اقبال

مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستانی درانداز بھارتی سرحد سے تیس کلومیٹر پیچھے ہٹ جائیں گے:امت شاہ

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنمودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستانی درانداز بھارتی سرحد سے تیس کلومیٹر پیچھے ہٹ جائیں گے:امت شاہ

امت شاہ وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے سب سے قریبی معتمد ہیں۔ وہ گجرات کے وزیر داخلہ بھی تھے لیکن پولیس کے ایک فرضی مقابلے میں ان کا نام آیا اور کئی مہینے جیل میں گزارنے کے بعد اب وہ ضمانت پر رہا ہیں۔ انھیں کئی سنگین الزامات کا سامنا ہے۔

جمہوری اداروں اور تقاضوں میں ان کے یقین کو بھی کوئی چیلنج نہیں کر سکتا، اس لیے نریندر مودی نے انھیں اتر پردیش میں اپنی انتخابی مہم کا انچارج بنا رکھا ہے۔

اب امت شاہ نے کہا ہے کہ مودی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستانی درانداز بھارتی سرحد سے تیس کلومیٹر پیچھے ہٹ جائیں گے۔ یہ ہوتا ہے حکومتوں کا اقبال!

مودی بنگلہ دیش سے آکر ملک میں بسنے والے لوگوں کو پہلے ہی متنبہ کر چکے ہیں کہ سولہ مئی کے بعد وہ اپنا بستر باندھ کر رکھیں۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ یہ لوگ بھی خود بہ خود بنگلہ دیش واپس چلے جائیں گے اور سرحد سے تیس کلومیٹر دور اپنے نئے گھر بسائیں گے یا آسام میں قیام امن کے بعد خالی بیٹھے ہوئے بوڈو شدت پسند انھیں چھوڑ کر آئیں گے؟