برما مردم شماری، بطور روہنگیا اندراج ممنوع

،تصویر کا ذریعہReuters
برما میں حکام نے گذشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار مردم شماری کا کام شروع کر دیا ہے تاہم انھوں نے لوگوں کو روہنگیا کے طور پر درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ برما کے تمام باشندوں کو اپنی نسلی شناخت کے انتخاب کی آزادی ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اس مردم شماری میں برما کی حکومت کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔
اس کے باوجود برما کے حکام کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمان اپنے آپ کو بنگالی مسلمان کے طور پر رجسٹر کروائیں ورنہ ان کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔
میانمار (برما) کی حکومت روہنگیا کو تارکین وطن کے طور پر دیکھتے ہیں اور انھیں شہریت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
دوسری جانب روہنگیا قبائل کا کہنا ہے کہ وہ میانمار کا حصہ ہیں اور حکومت ان کے خلاف ظلم و ستم کرتی ہے۔
ملک میں بدھ مت کے ماننے والوں اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔
سنہ 2012 میں ملک کے رخائن صوبے میں وسیع پیمانے پر روہنگیا کے خلاف تشدد کے واقعات رونما ہوئے اور ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
اس کے بعد وقفے وقفے سے وہاں تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں اور گذشتہ ہفتے رخائن میں امدادی کاموں میں مصروف بین الاقوامی ایڈ ایجنسیوں پر حملے بھی ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے روہنگیا کو دنیا میں سب سے زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی اقلیت کے طور پر بیان کیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مردم شماری میں نسل اور مذہب کے بارے میں تفصیلی معلومات طلب کی گئی ہے جس سے کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بڑھ گيا ہے۔
وہاں یہ افواہ بھی گرم ہے کہ اگر روہنگیا نسل کو تسلیم کیا جاتا ہے تو رخائن کے بہت سے بدھ مت مذہب کے ماننے والے اس کا بائیکاٹ کر دیں گے۔
حکومت کے ترجمان یے ہوٹ نے کہا ہے کہ ’جو کوئی بھی گھر اپنے آّپ کو روہنگیا کہے گا اس کا اندراج نہیں کیا جائے گا۔‘







