دہلی میں نریندر مودی کی ’ٹی پارٹی‘

بھارت کے الیکشن کمیشن نے بھی اس مہم کا نوٹس لیتے ہوئے مودی سے کہا ہے کہ وہ آئندہ ایسی ’ٹی پارٹی‘ سے قبل کمیشن سے اجازت لیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت کے الیکشن کمیشن نے بھی اس مہم کا نوٹس لیتے ہوئے مودی سے کہا ہے کہ وہ آئندہ ایسی ’ٹی پارٹی‘ سے قبل کمیشن سے اجازت لیں

بھارت میں انتخابی مہم ہمیشہ سے رنگین اور پرجوش مناظر کا مجموعہ ہوتی ہیں اور بہت سے لوگوں کے خیال میں اسے جمہوریت کا نچوڑ سمجھا جا سکتا ہے۔ سنہ 2014 کے انتخابات کے لیے کئی سیاست دان اپنے ووٹروں سے رابطے کے لیے انوکھے طریقے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے سنجوئے مجومدار نے ایسے ہی ایک امیدوار اور بی جے پی کے رہنما نریندر مودی کی مہم کا جائزہ لیا۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں زور باغ اور لودھی کالونی کے درمیان واقع یہ بازار شہر کے دیگر عام بازاروں جیسا ہی ہے اور انھی کی طرح یہاں ایک چائے کی دکان بھی ہے جہاں محلے دار گرم گرم چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے ملکی سیاست پر زور شور سے تبصرے کرتے ہیں۔

لیکن اس شام سوہن لال کی چائے کی دکان پر ماحول ذرا مختلف تھا۔

مقامی لوگ معمول کے مطابق یہاں چائے پینے تو جمع ہوئے لیکن ان کی آنکھیں ان دو ٹی وی سکرینوں پر جمی تھیں جن پر اپوزیشن کی جماعت بی جے پی کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کی تقریر دکھائی جا رہی تھی۔

یہی نہیں بی جے پی کے رضاکار چائے پینے والوں کو ایسے کپ پکڑا رہے تھے جن پر مودی کی تصویر چھاپی گئی تھی۔

یہ شاید آپ کو اتنی غیرمعمولی بات نہ لگے لیکن یہ عمل بھارت بھر میں ایک ساتھ ایک ہزار چائے خانوں پر سرانجام دیا گیا۔

یہ نریندر مودی کی ’چائے پر چرچا‘ یعنی چائے پر بحث نامی مہم ہے اور اس دوران اپنے پیغام میں وہ نہ صرف بھارت کے بارے میں اپنے منصوبوں سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں بلکہ عوام کے سوالات کے جواب بھی دیتے ہیں۔

اس دن مودی وسطی دہلی میں بی جے پی کے مرکزی دفتر میں موجود تھے اور ویڈیو لنک کی مدد سے لوگوں کے سوالات سن رہے تھے اور ان پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔

اس ’ویڈیو لنک چیٹ‘ کے دوران تکنیکی مسائل بھی درپیش ہوئے جیسا کہ حیدرآباد میں کنکشن ہی منقطع ہوگیا لیکن مجموعی طور پر یہ مہم کامیاب رہی۔

اسے ایک چونکانے یا توجہ حاصل کرنے والا شعبدہ بھی کہا جا سکتا ہے لیکن عوامی توجہ حاصل کرنے کی یہ کوشش یقیناً کامیاب قرار دی جا سکتی ہے۔

چائے خانے میں موجود ایک بزرگ کا کہنا تھا کہ ’اکثر سیاستدان اپنا پیغام عوام تک نہیں پہنچا پاتے اور ووٹروں کے پاس ان سے براہِ راست رابطے کا کوئی طریقہ بھی نہیں ہوتا۔ یہ نیا طریقہ یقیناً کام کرے گا۔‘

ایک راہ گیر خاتون کا کہنا تھا کہ ’میں تو بس یہاں سے گزر رہی تھی، مجھے لگا کہ یہاں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔ اس لیے میں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے آج تک چائے کی ایسی دعوت نہیں دیکھی۔‘

سوہن لال کی دکان میں موجود زیادہ تر افراد پہلے ہی مودی کے حامی ہیں لیکن اس مہم کے رضاکار چائے کی یہ دعوت ایسے علاقوں میں بھی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں سیاسی طور پر بی جے پی کی گرفت مضبوط نہیں۔

’چائے پر چرچا‘ کی ایک دلچسپ بات اس کا نریندر مودی کے ماضی سے تعلق ہے۔ مودی کے والد بھی ایک چائے خانے کے مالک تھے جہاں مودی نے بھی کام کیا اور وہ اب اپنے اس ماضی کے سہارے اپنا مستقبل سنوارنے کی کوشش میں ہیں۔

اور یہ کوشش کامیاب ہوتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ اس مہم کے بارے میں عوام بات کر رہی ہے۔

صرف عوام ہی نہیں بھارت کے الیکشن کمیشن نے بھی اس مہم کا نوٹس لیتے ہوئے مودی سے کہا ہے کہ وہ آئندہ ایسی ’ٹی پارٹی‘ سے قبل کمیشن سے اجازت لیں۔ الیکشن کمیشن اس بات کا جائزہ بھی لے رہا ہے کہ آیا ووٹروں کو مفت چائے پلانا انھیں رشوت دینے کے زمرے میں تو نہیں آتا۔

سوال یہ ہے کہ مودی کی یہ ’ٹی پارٹی‘ کتنی موثر ثابت ہوگی؟

سوہن لال کے چائے خانے کے قریب مجھے ان کا ایک ناقد ملا۔ ’یہ ایک بڑا تماشا ہے جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہاں سب بی جے پی کے حامی ہیں اور باقی لوگ چائے کے ایک کپ پر اپنی رائے نہیں بدلیں گے۔‘