ہندو تنظیم کے دباؤ پر کتاب واپس لینے کی مذمت

یہ کتاب ڈیڑھ برس پہلے بازار میں آئی تھی

،تصویر کا ذریعہPenguin India

،تصویر کا کیپشنیہ کتاب ڈیڑھ برس پہلے بازار میں آئی تھی
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے سرکردہ ادیبوں ، شاعروں اور دانشوروں نے ایک سخت گیر ہندو تنظیم کے دباؤ میں آ کر امریکی مورخ کی کتاب کو دوکانوں سے واپس لے لینے کے فیصلے پر عالمی ناشر پینگوئین انڈیا کی مذمت کی ہے۔

ہندو تنظیم ’شکشا بچاؤ آندولن سمیتی‘ نے امریکی مصنفہ وینڈی ڈونیگر کی کتاب ’ہندوازم: این آلٹرنیٹو ہسٹری‘ (ہندومت کی متبادل تاریخ) کے خلاف یہ کہہ کر مقدمہ دائر کر رکھا تھا کہ اس کتاب میں ہندو دیوتاؤں کی توہین کی گئی ہے اور ہندو مذہب کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے ۔

شکشا بچاؤ آندولن کا کہنا ہے کہ مصنفہ نے اپنی کتاب میں ’ہندو دیوی دیوتاؤں کو انتہائی جنسی انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب گندگی سے بھری ہوئی ہے۔ اس سے ہمارے جذبات کو بہت ٹھیس پہنچی ہے۔‘

پینگوئن نے بدھ کو ہندو تنظیم کے نمائندوں سے سمجھوتے کے بعد کتاب کو دوکانوں سے واپس لے کر ضائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم کئی دانشوروں کا کہنا ہے کہ یہ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے پہلے دانشوروں کو متنبہ کرنے کا اقدام ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ معاشرے کا ایک طبقہ آزادیِ اظہار کے تصور سے اتفاق نہیں رکھتا۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ ’کسی تحریر کا بہترین جواب ہمیشہ تحریر ہی ہوتی ہے اور اس کا جواب کسی کتاب پر پابندی لگانا نہیں ہے۔‘

دانشور وشنو کھرے نے بی بی سے بات کرتے ہوئے اس کتاب کی مخالفت پر حیرت ظاہر کی: ’اس کتاب کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ یہ تھیوری کی ایک موٹی کتاب ہے۔ ڈیڑھ برس پہلے آئی تھی۔ اس کا ہندی میں ترجمہ بھی نہیں ہوا ہے۔‘

کھرے کا خیال ہے کہ یہ قومی سیاست میں مودی کے بڑھتے ہوئے اثر کا غماز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ناشرین کو اندازہ ہو گیا ہے کہ مرکز میں ایک ہندو نواز حکومت آنے والی ہے ۔ وہ کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔ اس سے اعتدال پسند ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں کو بھی آنے والے دنوں کی وارننگ دے دی گئی ہے۔‘

معروف مورخ ڈاکٹر مشیر الحسن کہتے ہیں کہ دائیں بازو کی تنظیمیں اب طاقتور ہوتی جا رہی ہیں: ’خطرناک یبات یہ ہے یہ کہ یہ گروپ اور تنظیمیں اب حکومت اور اداروں پر اپنا اثر قائم کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔‘

ڈاکٹر حسن کا کہنا ہے کہ بھارتی معاشرے میں اعتدال پسندی اور قوت برداشت کم ہوتی جا رہی ہے اور ان سوالوں پر اب کوئی بحث نہیں ہوتی اور حکومتوں سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ وہ کیا چاہتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پچھلے بیس پچیس برس میں ملک میں رواداری میں کمی آئی ہے۔ اس کا اثر صرف عوام پر ہی نہیں پڑا ہے بلکہ ملک کے دانشور بھی خانوں میں تقسیم ہوتے جا رہے ہیں اور اظہار کی آزای کی اقدار کمزور پڑ رہی ہیں۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارت میں سخت گیر تنظیموں کے مطالبے پر کسی کتاب پر بابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے جب ایک سرکردہ پبلشر نے ایک تنظیم کے دباؤ میں ڈیڑھ برس پرانی کتاب کو کسی مزاحمت کے بغیر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پینگوئن انڈیا نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔