پولیس کے خلاف وزیر اعلیٰ کیجریوال کا دھرنا

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور ان کے کئی وزرا اپنے متعدد حامیوں کے ساتھ دہلی پولیس کے خلاف احتتجاج کر رہے ہیں۔
کیجریوال کی ریاستی حکومت دہلی پولیس کے بعض اہلکاروں کو معطل کیے جانے کا مطالبہ کر رہی ہے اور وہ احتجاج کے لیے وزیر داخلہ کے دفتر کی طرف مارچ کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو وزارت داخلہ سے کچھ فاصلے پر ریلوے کی وزارت کی عمارت کے پاس روک دیا ہے۔
ریلوے بھون کے نزدیک مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال نے مطالبہ کیا کہ جن پولیس اہلکاروں نے جمعرات کی رات ان کے وزیر قانون کا حکم نہیں مانا تھا، انھیں گرفتار کیا جائے۔انھوں نے اپنے حامیوں کے ساتھ وہیں سڑک پر دھرنا دے دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس متعلقہ پولیس اہلکاروں کی گرفتاری تک وہ وہیں دھرنے پر بیٹھے رہیں گے۔
ان کے دھرنے سے انتہائی پیچیدہ سیاسی صورتحال پیدہ ہوگئی ہے۔ 26 جنوری کو دہلی میں یوم جمہوریہ کی پریڈ ہوتی ہے اور اس کی تیاریاں اس وقت آخری مرحلے میں ہیں۔ کیجریوال اور ان کے حامی جس جگہ دھرنے پر بیٹھے ہیں وہ پریڈ کے مقام سے ملا ہوا ہے۔ اس وقت ہزاروں پولیس اہلکاروں نے احتجاجیوں کے گرد حصار بنا رکھا ہے۔
کیجریوال کی حکومت اور دہلی پولیس کے درمیان ٹکراؤ اس وقت شروع ہوا جب گذشتہ جمعرات کو دہلی کے وزیر قانون سومناتھ بھارتی نے اپنے حامیوں کے ساتھ ایک رہائشی علاقے میں رات ایک بجے بعض افریقی طلبا کے گھروں پر چھاپہ مارا۔
ان کا الزام تھا کہ یہ افریقی باشندے منشیات اور جسم فروشی کے غیر قانونی دھندے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کئی لڑکیوں سمیت متعدد افریقی رہائشیوں کوکئی گھنٹے تک محاصرے میں رکھا اور ان کا زبردستی نارکوٹک ٹیسٹ کرایا۔
سومناتھ بھارتی نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو حکم دیا کہ وہ ان افریقی باشندوں کے گھر کی کی تلاشی لیں اور انہیں گرفتار کریں۔ پولیس نے تلاشی اور گرفتاری سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ وہ ضابطے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔
دہلی کے لفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے اس واقعے کی تفتیش کے بعد ہی کسی کارروائی کرنے کی یقین دہانی کی ہے لیکن وزیر اعلیٰ کیجریوال کسی تفتیش کے بغیر ان اہلکاروں کی معطلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی پولیس دہلی حکومت کے ماتحت نہیں اور وہ مرکزی وزارت داخلہ کو جوابدہ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کیجریوال اس واقعہ کو بہانہ بنا کر دہلی پولیس کو دہلی حکومت کے تحت لانے کے لیے دباؤ بنا رہے ہیں۔
لیکن افریقی ملکوں کے طلبہ پر دہلی کے وزیر قانون کے چھاپے کا معاملہ اب پیچیدگی اختیار کر گیا ہے۔ ایک طرف دہلی کی ایک عدالت نے افریقی ممالک کے طلبہ پر چھاپے مارنے والے تمام افراد کے خلاف کیس درج کرنے کا حکم دیا ہے اور دوسری جانب افریقی ممالک کے سفارتکاروں نے اپنے شہریوں کے خلاف نسل پرستی کا رویہ اختیار کیے جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
گذشتہ ہفتے بھارت کےوزیر خارجہ سلمان خورشید نے بیس سے زیادہ افریقی ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایاکہ جمعرات کا واقعہ ایک علیحدہ قسم کا واقعہ تھا اور اس طرح کی حرکت کی دوبارہ اجازت نہیں دی جائے گی۔
حقوق انسانی کے قومی کمیشن نے بھی دہلی کے چیف سکریٹری، پولیس کمشنر اور دوسرے اہکاروں کو نوٹس جاری کیا اور ان سے پوچھا ہے کہ کیا یہ معاملہ نسل پرستی کا نہیں ہے؟
چھاپے کا شکار ہونے والی کئی افریقی لڑکیوں نے نامعلوم افراد کے خلاف تشدد اور چھیڑخانی کے معاملات درج کرائے ہیں۔
وزیر قانون کے ذریعے افریقی باشندوں کے گھروں پر خود چھاپے مارنے کے واقعے پر کئی حلقوں کی طرف سے شدید نکتہ چینی کی گئی ہے۔
لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیجریوال نے اس معاملے کو دانستہ طور پر طول دیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس سوال پر مرکزی حکومت سے ٹکرانے پر ان کی جماعت کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گا۔







