دوریاں اور کم: پاک بھارت تجارت بڑھانے پر راضی

بھارت نے پاکستان کو سال 1996 میں ایم ایف این کا درجہ دے دیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبھارت نے پاکستان کو سال 1996 میں ایم ایف این کا درجہ دے دیا تھا
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

پاکستان اور بھارت نے باہمی تجارت کو فروغ دینےکے لیے ایک دوسرے کو اپنی منڈیوں تک ’بلا امتیازی رسائی‘ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنیچر کو دہلی میں مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ تجارت خرم دستگیر خان اور ان کے بھارتی ہم منصب آنند شرما نے کہا کہ انھوں نے واہگہ کے راستے کاروبار کو آسان بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ دونوں ملکوں کے بینک جلد ہی ایک دوسرے کے یہاں اپنی شاخیں کھول سکیں گے۔

دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت نے باہمی کاروبار کو فروغ دینے کے لیے اپنی حکومتوں کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ جن اقدامات پر اتفاق ہوا ہے انھیں فروری کے اواخر تک عمل میں لایا جائے گا۔

پاکستان کے وزیرِ تجارت نے مذاکرات سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ بات چیت کا بنیادی مقصد باہمی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے اور اس کے لیے این ڈی ایم اے یعنی منڈیوں تک بلا امتیاز رسائی کے نام سے ایک ایسے متوازی نظام پر غور کیا جا رہا ہے جسے ایم ایف این کا متبادل کہا جا سکتا ہے۔

بھارت نے پاکستان کو سال 1996 میں ایم ایف این کا درجہ دے دیا تھا لیکن پاکستان کا موقف تھا کہ باہمی تجارت کا توازن یکطرفہ طور پر بھارت کے حق میں ہے اور بھارت کو توازن بحال کرنےکے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔

دونوں ملکوں نے ستمبر 2012 میں ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا تھا لیکن اس کے بعد لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی وجہ سے بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی تھی۔

وزارتِ تجارت کے سیکریٹریوں کے درمیان 16 ماہ کے بعد یہ پہلی ملاقات تھی۔ اس روڈ میپ کے تحت دونوں ملکوں نے باہمی کاروبار کا دائرہ بڑھانے پر اتفاق کیا تھا اور کوشش یہ کی جانی تھی کہ تجارت کا حجم 2014 تک چھ ارب ڈالر تک پہنچ جائے۔ لیکن فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان کاروبار کا حجم تقریباً ڈھائی ارب ڈالر ہے۔

مذاکرات کے بعد جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ باہمی تجارت کو پٹری پر لانے اور کاروبار کی راہ آسان کرنے کا عمل تیز کیا جائے گا اور واہگہ کے راستے ہفتے میں ساتوں دن تجارت کا عمل جاری رکھنے کے لیے تمام انتظامات پورے کر لیے گئے ہیں۔

دونوں نے کارگو کے لیے کنٹینروں کے استعمال اور ویزے کے نظام میں نرمی کا طریقۂ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

مذاکرات کےدوران پاکستان کا موقف تھا کہ کاروبارکے فروغ میں ویزے کا مووجوہ سخت نظام ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

دونوں ملکوں نے بنکاری، ریلوے ، کسٹم اور توانائی کے شعبے میں تکنیکی ورکنگ گروپوں کی میٹنگ طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ ان اقدامت پر عمل کیا جا سکے۔