بوہرا رہنما کے آخری دیدار کے دوران بھگدڑ میں 18 ہلاک

بھارت کے شہر ممبئی میں داؤدی بوہرا جماعت کے روحانی پیشوا ڈاکٹر محمد برہان الدین کے جسد خاکی کے آخری دیدار کے دوران بھگدڑ کے نتیجے میں 18 لوگوں کی موت ہو گئي ہے۔
ممبئی میں بی بی سی کی نمائندہ کے مطابق اس میں 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ممبئی کے پولیس کمشنر ستیہ پال سنگھ نے بھگدڑ کے نتیجے میں 18 افراد کی موت کی تصدیق کی ہے۔
بھیڑ پر کنٹرول کے لیے پولیس کمشنر کی جانب سے ریپڈ ایکشن فورسز کو بلایا گیا ہے۔
سیدنا برہان الدین کو تین گھنٹے تک جاری رہنے والی آخری رسومات کے بعد بھنڈی بازار میں داؤدي بوہرا برادری کی درگاہ میں دفن کیا جائے گا۔
ممبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار مدھوپال کے مطابق بوہرا برادری کے سابق مذہبی رہنما اور ان کے والد بھی اسی درگاہ میں دفن ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اس بھگدڑ میں زخمی ہونے والوں کو بوہرا برادری کے سیفی ہسپتال میں داخل کیا گيا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے جبکہ تین لوگوں کی حالت تشویشناک بتائي جا رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد برہان الدینکو بوہرا مسلک والے سیدنا کہتے ہیں اور ان کے آخری دیدار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل ڈاکٹر برہان الدین کے ایگزیکٹو سیکریٹری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا انتقال نیند میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔
آئندہ چند ہفتوں میں سیدنا برہان الدین اپنی 103 ویں سالگرہ منانے والے تھے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ان کی موت پر اظہار تعزیت کیا ہے اور اس برادری کے لوگوں سے صبر کی تلقین کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
منموہن سنگھ نے کہا کہ انسان دوستی کا ان کا پیغام تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتا تھا۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ وہ کسی مخصوص مسلک کے رہنما نہیں تھے بلکہ تمام مسالک کے لوگ ان سے محبت کرتے تھے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے محمد برہان الدین کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور ان کے خاندان والوں کے لیے صبر کی دعا کی۔
پاکستان کے صدر ممنون حسین نے بھی بوہرا جماعت کے روحانی پیشوا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
ان کے خاندان اور پیروکاروں کے نام ایک پیغام میں صدر نے ان کی خدمات کو سراہا اور ان کے خاندان اور پیروکاروں کے لیے صبر کی دعا کی۔
دنیا بھر میں موجود تقریباً 12 لاکھ بوہرا برادری کے لیے وہ مشعل راہ تھے اور بوہرا مسلک والوں کے لیے وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد کے بلاواسطہ 52 ویں ’داعئی مطلق‘ تھے۔







