ڈھاکہ:آتشزدگی میں ہلاکتیں، فیکٹری مالکان سمیت 13 پر مقدمہ

بنگلہ دیش کی پولیس نے 13 ماہ قبل ملبوسات بنانے والے کارخانے میں آتشزدگی کے معاملے میں فیکٹری مالکان سمیت 13 افراد کے خلاف قتلِ خطا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
دارالحکومت ڈھاکہ کے مضافات میں واقع اس کارخانے میں 24 نومبر 2012 کو آگ لگنے سے 111 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سانحے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے رکن اور پولیس اہلکار محسن الزماں خان نے کہا: ’ملبوسات فیکٹری کے مالکان دلاور حسین، ان کی اہلیہ اور کمپنی کی چیئرپرسن محمودہ اختر کے علاوہ فیکٹری کے محافظین سمیت گیارہ دوسرے افراد پر مقدمہ درج کیا گيا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ کارخانے کے مینیجرز اور محافظین کے خلاف مقدمہ اس لیے درج کیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے نچلی منزل پر آگ لگنے کے باوجود کارکنوں کو کام جاری رکھنے پر مجبور کیا۔
محسن خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر بنگلہ دیش میں پہلی بار ایسے کسی واقعے میں کارخانے کے مالکان کے خلاف بھی کارروائی ہوئی ہے۔
ڈھاکہ پولیس کے انسپکٹر محمد اسد الزمان نے بتایا ہے کہ مقدمے میں مالکان اور ملازمین پر لاپرواہی کے نتیجے میں قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اگر ان پر یہ الزامات ثابت ہوئے تو ملزمان کو عمر قید ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب استغاثہ اور مجسٹریٹ 31 دسمبر کو سماعت کے موقع پر فردِ جرم کا جائزہ لیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ وہ ان 13 افراد کے خلاف مقدمہ چلانا چاہتے ہیں یا نہیں اور تب ہی ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ فیکٹری کے مالکان کے ملک چھوڑنے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل بنگلہ دیش کی سرکاری تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ڈھاکہ کی ایک ملبوسات بنانے والی فیکڑی میں لگنے والی آگ تخریب کاری کا واقعہ تھا۔
فیکٹری میں آتشزدگی کے متعلق رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ تخریب کاری کا مقصد کیا تھا اور اس کارروائی میں کون ملوث تھے۔

اسی زمانے میں تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فیکٹری کے مالک نے انتہائی لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔انھوں نے بتایا تھا کہ فیکٹری میں کام کرنے والے درمیانہ درجے کے نو عہدیداروں نے ملازمین کو عمارت سے باہر نکلنے سے روکا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز کیا گیا تھا کہ فیکٹری کے مالک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
رپورٹ میں کہا گيا ہے کہ بعض افراد کی ہلاکت اونچائی سے گرنے کی وجہ سے ہوئی جب انہوں نے آگ سے بچنے کے لیے چھلانگ لگائی۔
بنگلہ دیش میں کپڑے بنانے کے بڑے کارخانوں میں آتشزدگی کے واقعات معمول کی بات ہیں لیکن یہ سانحہ اب تک کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔
بنگلہ دیش میں ملبوسات بنانے والے تقریباً 4500 کارخانے ہیں جن میں 20 لاکھ سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات کا 80 فیصد ٹیکسٹائل یا کپڑے سے بنی مصنوعات پر مشتمل ہے۔







