چین: دولت اور نمود و نمائش کے لیے نئے لفظ ’توہاؤ‘ کی مقبولیت

چین میں ایک نیا لفظ ’تو ہاؤ‘ اچانک بہت مقبول ہو گیا ہے جس کا مطلب’نودولتیا‘ سے قریب تر ہے۔
ستمبر سے اب تک سوشل میڈیا پر اس لفظ’ توہاؤ‘ کا استعمال دس کروڑ سے زائد بار کیا گیا ہے۔
یہ لفظ ملک میں کمیونسٹ پارٹی کے اخبار ’پیپلز ڈیلی‘ کی نئی عمارت سے لے کر معروف شخصیات کی مہنگی اور نمائش سے بھرپور شادیوں اور سنہرے رنگ کے آئی فونز تک ہر چیز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
<link type="page"><caption> چین: ہم جنس پرستوں کے لیے لفظ لغت سے غائب</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/07/120722_china_dictionary_ka.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> چین کا امیر طبقہ اور خواتین محافظ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/11/111114_chinese_women_guards_rh.shtml" platform="highweb"/></link>
نوٹنگھم میں سکول آف کنٹیمپرری چائنیز سٹڈیز کے پروفیسر سٹیو تسانگ بتاتے ہیں کہ ’ چینی زبان میں ’تو‘ کا مطلب زمین ہے اور ’ہاؤ‘ کا مطلب دولت مند ہے۔ اگر کسی کو ’توہاؤ‘ کہا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک غریب یا نچلے طبقے کے پس منظر سے ہے لیکن اچانک کسی طرح بہت دولت مند ہو گیا ہے اور اس دولت کو استعمال کرنے کے لیے اس کے پاس نہ عقل ہے اور نہ تمیز۔‘
وہ مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس لفظ کا تاثر اس سے کہیں زیادہ منفی ہے۔
’توہاؤ‘ درحقیقت ایک قدیم لفظ ہے جو پندرہ سو سال قبل سے مستعمل ہے لیکن ہر بار اس کا مطلب الگ ہوا کرتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1920 سے 1950 کےدوران کمیونسٹ انقلاب کے دنوں میں یہ لفظ زیادہ تر زمینداروں اور امرا کے لیے استعمال ہوتا رہا جو غریب طبقے پر دباؤ ڈالتے تھے۔
یہ لفظ ستمبر 2013 میں بڑے پیمانے پر شیئر کیے جانے والے ایک لطیفے کے بعد عام ہوا جس میں ایک دولت مند ناخوش آدمی ایک بودھ بھکشو کے پاس جاتا ہے اور اُس سے ایک سادہ زندگی گزارنے کے لیے مشورہ طلب کرتا ہے۔ جس کے جواب میں بھکشو اسے کہتا ہے’ توہاؤ، چلو دوست بن جائیں۔‘
پروفیسر تسانگ کہتے ہیں کہ ’چین میں انٹرنیٹ صارفین بہت تخلیقی صلاحتیں رکھتے ہیں۔ ماضی میں لاگو سنسر شپ اصولوں سے بچنے کے لیے وہ لگا تار نئے لفظ ایجاد کرتے اور پرانے لفظوں کی تجدید کرتے رہتے ہیں۔‘
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس لفظ کی مقبولیت کے معاملے میں حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ چین میں بدلتے معاشرے کی عکاسی کر رہا ہے۔ پروفیسر تسانگ کہتے ہیں کہ ’کئی لوگ دولت مندوں کو دیکھ کر ناک چڑھاتے ہیں لیکن در پردہ وہ ان سے حسد کر رہے ہوتے ہیں۔‘







