اسلحہ سے لدے امریکی کمپنی کے جہاز کا عملہ بھارت میں گرفتار

بھارتی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے بغیر اجازت بھارتی سمندری حدود میں داخل ہونے والے امریکی کمپنی کے ایک جہاز کے عملے کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے امریکی جہاز پر بڑی تعداد میں اسلحہ لدا ہوا ہے۔
بھارتی حکام نے کہا ہے کہ ایم وی سیمین گارڈ اوہائیو کو بارہ اکتوبر کو بھارتی سمندری حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے پر بھارتی کوسٹ گارڈز نے قبضے میں لے لیا تھا۔ امریکی جہاز اب بھی تامل ناڈو کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہے۔
امریکی جہاز کے عملے کے پینتیس اراکان میں بھارتی، برطانوی، یوکرین اور ایسٹونیا کے شہری بھی شامل ہیں۔
جہاز کی مالک امریکی کمپنی ایڈوانفورڈ نے کہا ہے کہ جہاز بحرہ ہند میں بحری قزاقی کے خلاف جاری آپریشن میں شامل تھا۔
بھارت حکام اور امریکی سکیورٹی فرم کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
بھارتی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی جہاز کو اس وقت اپنی تحویل میں لیا جب وہ تامل ناڈو کی ساحلی حدود سے باہر جا رہا تھا۔ بھارتی پولیس نے کہا ہے جہاز سے ایسا اسلحہ بھی قبضے میں لیا گیا ہے جس کی موجودگی سے انہیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
البتہ بحری جہاز کی مالک امریکی کمپنی ایڈونفورڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا جہاز علاقے میں آنے والے سمندری طوفان سے محفوظ رہنے اور ایندھن کے حصول کے لیے بھارتی پولیس اور کوسٹ گارڈ سے پیشگی اجازت کے بعد بھارتی پانیوں میں داخل ہوا تھا۔
امریکی کمپنی نے کہا ہے کہ جہاز پر موجود تمام اسلحہ باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی پولیس نے کہا ہے کہ عملے کے پینتیس ممبران میں سے تینتیس کو تفتیش کے لیے مقامی تھانے لے جایا گیا ہے۔ عملہ کے دو افراد کو جہاز پر رہنے دیا گیا ہے۔
عملے کے ارکان میں سے چھ کا تعلق برطانیہ سے ہے۔برطانوی ہائی کمیشن بھارتی حکام سے رابطے میں ہیں۔ امریکی سفارت خانے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔







