بھارتی سمندری حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے پر امریکی جہاز کا عملہ حراست میں

اس جہاز پر عملہ پیتیس ارکان پر مشتمل ہے جس میں بھارت، برطانیہ، یوکرائن اور ایسٹونیا کے شہری شامل ہیں
،تصویر کا کیپشناس جہاز پر عملہ پیتیس ارکان پر مشتمل ہے جس میں بھارت، برطانیہ، یوکرائن اور ایسٹونیا کے شہری شامل ہیں

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک امریکی بحری جہاز کے عملے کو بھاری مقدار میں اسلحے کے ہمراہ بھارتی سمندری حدود میں بغیر اجازت داخل ہونے پر حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ امریکی بحری جہاز ایم وی سی مین گارڈ اوہائیو کو بھارتی کوسٹ گارڈز نے بارہ اکتوبر کو حراست میں لیا تھا۔

اس جہاز پر عملہ پیتیس ارکان پر مشتمل ہے جس میں بھارت، برطانیہ، یوکرائن اور ایسٹونیا کے شہری شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ امریکی بحری جہاز نجی کمپنی کی ملکیت ہے۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں امریکی سفارتخانے نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

تمل ناڈو کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس جہاز کے عملے کو پولیس سٹیشن منتقل کردیا گیا ہے جہاں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے سال فروری سے بھارت اور اٹلی کے درمیان سفارتی کشیدگی جاری ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ اٹلی کے دو فوجیوں کی جانب سے دو بھارتی ماہی گیروں کی ہلاکت ہے۔

بھارت نے اٹلی کے دو اہلکاروں پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے کیرالا کی سمندری حدود میں فائرنگ کر کے دو ماہی گیروں کو ہلاک کردیا تھا۔

یہ دو اہلکار اٹلی کے ایک تیل بردار جہاز کی حفاظت پر معمور تھے اور وہ ان دو ماہی گیروں کو سمندری قزاق سمجھے۔