آسام کے اسحاق خاندان کی کہانی جہاں تین نسلوں سے نابینا بچے پیدا ہوتے ہیں

    • مصنف, دلیپ کمار شرما
    • عہدہ, صحافی، آسام سے بی بی سی ہندی کے لیے

’ہمارے والد نابینا تھے، ہم تین بہن بھائی بھی پیدائشی طور پر نابینا تھے، اس طرح ہماری تین نسلوں میں کل 19 افراد بغیر بینائی کے پیدا ہوئے، پہلے ہم سمجھتے تھے کہ اللہ نے ہمیں ایسا بنایا ہے، لیکن جب ڈاکٹروں نے ہمارے خاندان کے لوگوں کے جینیاتی ٹیسٹ کروائے تو پتا چلا کہ ہمارے گھر برسوں سے نابینا بچے کیوں پیدا ہو رہے ہیں۔‘

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے پیدائشی نابینا 54 سالہ محمد اسحاق علی یہ باتیں بڑی بے بسی اور امید کے ساتھ کہتے ہیں۔ محمد اسحاق کی بے بسی ان کے خاندان میں تین نسلوں سے پیدا ہونے والے نابینا افراد میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

سنہ 2018 میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے جینیٹک (جینیاتی) ٹیسٹ کر کے اس بیماری کی تشخیص کی، جس سے آنے والے وقت میں ان کے خاندان میں نابینا بچے کی پیدائش کو روکا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد خاندان کے افراد امید کی ایک لہر دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ ان کے خیال سے ان کی آنے والی نسل میں اب کوئی بچہ نابینا پیدا نہیں ہوگا۔

لیکن اس کے بعد بھی ایسا ہوا مگر کیوں؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے ان کے گاؤں کا سفر کیا اور اس خاندان کے ماضی و حال کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔

آسام کے اسحاق خاندان کی کہانی

آسام سے تعلق رکھنے والے اس نابینا خاندان کے سب سے عمردراز رکن عبدالواحد کہتے ہیں کہ ’میں نے کبھی ٹیسٹ نہیں کرایا کیونکہ میں جانتا تھا کہ ہم پیدائش سے ہی نابینا ہیں، یہ ہمارے خاندان میں ہے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ ٹیسٹ کروانے سے کیا حاصل ہو گا۔ لیکن اب ہمیں اس بیماری کے بارے میں پتہ چلا ہے۔‘

محمد اسحاق علی کا خاندان ریاست آسام کے ضلع نوگاؤں کے ایک چھوٹے سے گاؤں اتر کھٹوال میں آباد ہے۔ شمالی کھٹوال قومی شاہراہ-37 پر درالحکومت گوہاٹی سے تقریباً 150 کلومیٹر دور ہے۔

محمد اسحاق کے گاؤں کی طرف جانے والی کچی سڑک پر موجود گڑھوں اور ان گڑھوں میں بھرے پانی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کے لیے شہر تک پہنچنا کتنا مشکل ہوتا ہو گا۔

اس خاندان کی مجبوری یہ ہے کہ اس کے اکثر افراد نابینا ہونے کی وجہ سے ناخواندہ ہیں اور عام آدمی کی طرح اپنے روزمرہ کے کام کرنے سے قاصر ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ گاؤں سے دور دوسرے شہروں میں بھیک مانگ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔

اپنے خاندان کے نابینا افراد کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے محمد اسحاق کہتے ہیں کہ ’میرے والد پیدائشی طور پر نابینا تھے، ہم نے سنا تھا کہ ہماری دادی بھی نابینا تھیں، یہ برسوں پرانی بات ہے، ہم تین بھائی اور ایک بہن پیدائشی نابینا تھے۔ بہن کی شادی نہیں ہوئی۔ لیکن جب ہم بھائیوں کی شادی ہوئی تو ہمارے اکثر بچے نابینا پیدا ہوئے جبکہ ہماری بیویاں دیکھ سکتی ہیں۔‘

'میرے بڑے بھائی عبدالواحد کے چار بیٹے ہیں۔ ان میں سے تین نابینا ہیں۔ میرے اپنے سات بچے ہیں۔ ان میں سے دو پیدائش نابینا ہیں جبکہ پانچ کو اللہ نے آنکھوں کی روشنی عطا کی ہے۔ میرے چھوٹے بھائی آکاش علی کے پانچ بچے ہیں جن میں سے تین نابینا ہیں۔ میرے چھ نابینا بھتیجوں کے بھی پانچ بچے نابینا پیدا ہوئے ہیں۔ میری بیٹی کے دو بچے بھی نابینا ہیں۔ اس طرح ہمارے 33 افراد کے خاندان میں 19 نابینا ہیں۔‘

ڈاکٹروں کا کیا کہنا ہے؟

محمد اسحاق کا خاندان برسوں سے جس اندھے پن کو اپنا مقدر سمجھ رہا تھا، طبی جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے اس کا حل نکال لیا ہے۔

آسام کے لکھیم پور میڈیکل کالج کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر گایتری گوگوئی نے اس خاندان کو تلاش کیا اور ان کا جینیاتی ٹیسٹ کروایا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’2018 میں جب میں نے ایک نیوز چینل کی ٹی وی سکرین پر اس خاندان کے کچھ بصارت سے محروم لوگوں کو دیکھا تو پایا کہ ان کی آنکھوں کے ساکٹ کے اندر دیدے بھی نہیں تھے۔ وہ سب دیکھنے میں ایک جیسے تھے۔ اس لیے ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے مجھے ایسا لگتا تھا کہ یہ تمام لوگ ایک ہی قسم کی آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

'میں نے کینسر کی جینیاتی سکریننگ کے طریقہ کار کی تربیت لے رکھی ہے۔ اس لیے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ تمام لوگ کسی جینیاتی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ میں نے ان کے گاؤں کے مقامی ایم ایل اے نورالہدی سے اس خاندان کے بارے میں بات کی اور مشورہ کیا۔ اور پھر خاندان کے لوگوں کو جینیاتی جانچ کے لیے آمادہ کیا۔‘

اس انتہائی نایاب بیماری کا پتہ لگانے کے بارے میں ڈاکٹر گایتری گوگوئی کہتی ہیں کہ ’ہم نے ابتدائی طبی تحقیقات کے لیے گوہاٹی میں ڈاکٹر پنکج ڈیکا سمیت پانچ طبی ماہرین کی ایک ٹیم بنائی تھی۔ میں نے سب سے پہلے محمد اسحاق کی خاندانی تاریخ کا مطالعہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

'ہم نے اس خاندان کے سب سے پرانے فرد عبدالواحد (62 سال)، ان کی بہن سومالہ خاتون اور ان کے بھتیجے خیر الاسلام کے خون کے نمونے جانچ کے لیے باہر بھیجے۔

'دراصل ہم نے ایک تسلیم شدہ جینیاتی ٹیسٹنگ لیبارٹری سے رابطہ کیا تاکہ اس جین کی کلینیکل ایکسوم سیکوینسنگ کی جا سکے جو آنکھ کے اندر آئی بال کی نشوونما کے لیے ذمہ دار ہے، یعنی وہ جین جس سے انسانی آنکھ کی نشوونما ہوتی ہے۔ جب ان لوگوں کی ٹیسٹ رپورٹ آئی تو ان میں آٹوسومل کے ڈومیننٹ حالت میں ہونے کا علم ہوا۔‘

آٹوسومل کا غلبہ

انھوں نے مزید بتایا کہ ’تحقیقات میں مس سینس میوٹیشن جی جے اے-8 نام کا ایک جین پایا گیا جس کی وجہ سے ان لوگوں کی آنکھوں کی نشوونما نہیں ہوئی۔ یہ ایک ایسی نادر بیماری ہے جس کی وجہ سے بصارت کے لیے ضروری ریٹینا اور کارنیا جیسے عضو پوری طرح تیار نہیں ہو پاتے۔‘

ڈاکٹر گایتری نے کہا کہ ’عام بچے کی پیدائش کو یقینی بنانے کے لیے عورت کے رحم میں موجود جنین سے نمونے لے کر جینیاتی جانچ کرنی پڑتی ہے۔ حاملہ عورت کے جنین میں GJA8 جین کا پتہ لگانے کے لیے 12 ہفتوں کے حمل کے دوران ہی نمونہ جمع کرنا ہوتا ہے۔

اگر ٹیسٹ رپورٹ میں یہ جین نہیں پایا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ خاتون ایک نارمل بچے کو جنم دے گی۔ اگر جنین کے ٹیسٹ میں جی جے اے 8 جین پایا جاتا ہے تو اس حاملہ خاتون کو قانونی طور پر حمل گرانے کی سہولت دی جائے گی۔ لیکن جنین میں اس جین کی عدم موجودگی کا پتہ لگانا حمل کے 20 ہفتوں تک ہی ممکن ہے۔

انڈیا کے قانون میں ایسی صورتحال میں اسقاط حمل کی اجازت ہے۔ ڈاکٹر گایتری نے گھر والوں کو بھی یہ اطلاع دی ہے۔

ڈاکٹروں کی مدد کے بعد اپنے خاندان میں بینائی کے حامل بچے کی پیدائش پر خوش عادل کے والد آکاش علی کا کہنا ہے کہ میں اور میرے تین بیٹے دیکھ نہیں سکتے لیکن جب میں نے اپنے ایک نابینا بیٹے کی شادی کرائی تو ڈاکٹروں کے تمام مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وقت پر جینیاتی ٹیسٹ کروایا۔ اس کے بعد ہمارے گھر ایک نارمل بچہ پیدا ہوا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرا پوتا دیکھ سکتا ہے۔`

بہر حال رواں سال پھر سے خاندان میں ایک نابینا بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

2018 کے بعد بھی نابینا بچے کی پیدائش

درحقیقت نابینا ہونے کی وجہ سے محمد اسحاق اور دیگر نابینا افراد کسی کی مدد کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔

آسمینہ کے خاوند انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں مزدوری کرتے ہیں جبکہ آسمینہ اپنی بوڑھی ساس کے ساتھ اپنے سسرال میں رہتی ہے۔ حاملہ ہونے کے بعد، وہ اپنی بہن کے ساتھ ایک بار چیک اپ کے لیے گوہاٹی گئی تھیں۔ لیکن ڈاکٹروں نے اسے تین ماہ بعد دوبارہ بلایا۔

دو ماہ قبل دوبارہ نابینا لڑکی کو جنم دینے کے بارے میں آسمینہ کہتی ہیں کہ میں دیکھ نہیں سکتی، اس لیے روزمرہ کی زندگی میں بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ شوہر باہر رہتے ہیں اور اپنی کمائی سے گھر چلاتے ہیں۔ اگر وہ ہماری دیکھ بھال کے لیے گھر بیٹھ جائيں تو ہمارا کام کیسے چلے گا۔ پیسوں کا مسئلہ رہتا ہے اور الٹرا ساؤنڈ کے لیے ساڑھے تین ہزار روپے لگتے ہیں۔

'اور پھر اتنی دور گوہاٹی آنے اور جانے کا کرایہ بھی چاہیے ہے۔ ایک آدمی کو ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔ ایک بہن پڑھی لکھی ہے اور دیکھ سکتی ہے۔ وہ بھی اس دوران علاج کے لیے چینئی (ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت) گئی تھی۔ اس لیے میں وقت پر دوبارہ چیک اپ کے لیے نہیں جا سکی۔ وقت گزرنے کے بعد میرے پاس بچے کو جنم دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔‘

مستقبل کتنا مشکل ہے؟

کیا مستقبل میں خاندان کو اس بیماری سے نجات مل سکتی ہے؟ اس سوال پر ڈاکٹر گایتری کا کہنا ہے کہ 'اگر ماں یا باپ میں سے کسی ایک کو یہ بیماری ہو تو بچے میں ہونے کا امکان ہے۔ اگر وہ لوگ اس میڈیکل پراسیس پر مستقبل میں سنجیدگی سے عمل کرتے ہیں تو ان کے خاندان میں یہ بیماری پوری طرح ختم ہو سکتی ہے۔ یعنی اس طبی عمل کو اس وقت تک فالو کرنا ہو گا جب تک خاندان میں موجود سب سے کم عمر نابینا رکن دوبارہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے۔'

ظاہر ہے اس پر بہت زیادہ رقم خرچ ہوگی۔

محمد اسحاق اپنی معاشی حالت کے بارے میں کہتے ہیں کہ 'ہم لوگوں سے مانگ کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں، پیسوں کی پریشانی کے باعث میری بیٹی نے ایک نابینا بچے کو جنم دیا، سنہ 2018 سے ہمارے 17 نابینا افراد کو آسام حکومت کی جانب سے ایک ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ آسام حکومت معذوروں کو پنشن کے طور پر فی شخص ایک ہزار روپے دیتی ہے۔ ایک ہزار روپے میں آدمی کیسے گزارہ کرے گا؟`

'جینیاتی جانچ کے لیے 10,000 روپے کی ضرورت ہوتی ہے اور اتنی ہی رقم گوہاٹی آنے اور جانے کے لیے درکار ہے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے خاندان کو اس اندھے پن سے نکالنے میں ہماری مدد کرے۔'

دنیا میں اس بیماری کی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔

ڈاکٹر گایتری کا کہنا ہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا کے کچھ کلینیکل جینیاتی مراکز نے وہاں تین مریضوں کے پیدائشی نقائص کا مطالعہ کرکے اس جین کا پتہ لگایا تھا۔ اس کا ریکارڈ سائنس کی کتب میں موجود ہے۔

آسام کا یہ نابینا خاندان دنیا کا چوتھا ایسا خاندان ہے جو اس انتہائی نایاب بیماری کا شکار ہے۔