بقا کی جنگ لڑتے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے بکروال قبیلے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک خانہ بدوش قبیلہ گرد و پیش کے بدلتے حالات اور موسمی تبدیلیوں کے تناظر میں اپنے روایتی طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

بکروال قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک چرواہے لیاقت خان کا کہنا ہے کہ ’لوگ ہماری زندگی کی خوبصورت تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہماری زندگی دراصل مشکلات اور مصائب کی داستان ہے۔‘

بکروال جموں و کشمیر خطے کی 34 لاکھ خانہ بدوش برادری کا حصہ ہیں، جن کا بنیادی ذریعے معاش گلہ بانی ہے۔

تیس سالہ نذیرہ اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ یہاں ایک خیمے میں رہ رہی ہیں۔ ان کا قبیلہ تین دن پہلے آیا تھا۔

ان کا کہنا ہے، ’اب ہماری سرمائی ہجرت کا وقت آن پہنچا ہے۔‘

برسوں سے بکروال قبیلہ جموں و کشمیر کے درمیان گھومتا رہا ہے۔ وہ گرمیوں کے دوران کشمیر میں چھ مہینے گزارتے ہیں، اور اپریل میں وادی میں پہنچتے ہیں۔ اکتوبر تک وہ سردیوں کے لیے جموں کے میدانی علاقوں میں لوٹ جاتے ہیں۔

ایک نوجوان لڑکی زلفی نے کہا، ’ہمارا تعلق کہیں سے نہیں ہے۔ یہ تو بس ہمارا موسم گرما کا گھر ہے۔‘

وفاقی حکومت نے سنہ 2001 میں بکروال کو باضابطہ طور پر ’شیڈولڈ کاسٹ‘ قرار دیدیا تھا۔ یعنی انھیں انڈین آئین کے مطابق سماجی اور معاشی لحاظ سے پسماندہ تسلیم کر لیا گیا تھا۔

آج یہ قبیلہ اپنے مویشیوں پر جو ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ یہ جنگلی جانوروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے اپنے روایتی طرز زندگی کے بارے میں خوفزدہ ہے۔

ان کے مویشیوں کی فروخت میں بھی کمی آئی ہے۔

سری نگر کے مضافات میں خیمہ زن 50 سالہ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ ’پہلے ایک دن کی محنت میں بھیڑ یا بکری کا اچھا خاصہ معاوضہ مل جاتا تھا۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔‘

اس برادری کو تیزی سے خراب ہوتے موسم حالات کی وجہ سے بھی مشکل کا سامنا ہے۔ لیاقت خان کہتے ہیں، ’ہمالیہ کی اونچی چراگاہوں تک جانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔‘

جون میں جموں و کشمیر کی وادئ چناب میں بے موسم برفباری اور شدید سردی کی وجہ سے سینکڑوں خاندان سڑکوں پر پھنس کر رہ گئے تھے، اور ان کے پاس خوراک اور چارا بھی کم تھا۔

اس قبیلہ کے لیے ایک اور بڑی تشویش جنگل کی زمینوں تک ان کی رسائی ہے۔

پچھلے سال برادری کے سینکڑوں کنبوں کو ’غیر قانونی طور پر‘ جنگلات پر قبضہ کرنے کے لیے بے دخلی کا نوٹس دیا گیا تھا، جہاں وہ کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں۔ حکام نے کئی گھروں کو بھی مسمار کر دیا ہے، یہ برادری ان علاقوں میں عارضی خیموں اور گارے سے بنی جھونپڑیوں میں رہتی ہے۔

تاہم چند ماہ بعد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ حکام قبائل کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں گے اور انھیں اسناد جاری کریں گے۔

ان کے موجودہ تلخ حقائق قبیلے کی نوجوان نسل کو اچھی تعلیم حاصل کرنے اور ایک آسان زندگی گزارنے پر توجہ مرکوز کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

انتظامیہ نے بھی جنگلی علاقوں میں ایسے قبائل کے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے کمیونٹی سکول قائم کیے ہیں۔

تمام مشکلات کے باوجود یہ خانہ بدوش اپنے روایتی طرزِ زندگی کو برقرار رکھنا کے لیے پر عزم ہیں۔

زلفی کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی بھی چیز کو ترک نہیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ اپنی زندگی کے بارے میں ہم غیر یقینی کا شکار ہیں، مگر ہم اپنی روایات کو کسی کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔‘