دو بہنوں کا ریپ اور قتل: ’میں ان آدمیوں کو پھانسی پر لٹکا دیکھنا چاہتی ہوں جنھوں نے میری بیٹیوں کو پھانسی پر لٹکایا‘

انڈیا کی ریاست اتر پردیش میں دو بہنوں کی درخت سے لٹکی لاشیں ملنے کے بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس بات تصدیق ہو گئی ہے کہ دونوں کو ریپ کرنے بعد قتل کیا گیا ہے۔ بی بی سی کی گیتا پانڈے ان لڑکیوں کے گاؤں لکھم پور گئیں جہاں ان لڑکیوں کا خاندان اپنے ساتھ پیش آنے والے اندوہناک واقعے کو برداشت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بدھ کی رات سے جاری موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے اس علاقے کا بُرا حال ہے، گاؤں میں اُن کے گھر تک جانے والی تنگ گلی کیچڑ سے بھری پڑی ہے۔ یہ گاؤں ریاستی دار الحکومت لکھنئو سے لگ بھگ 200 کلومیٹر دور ہے۔

دو کمروں کے اس گھر کے اندر کی اُداسی کا منظر اور باہر سرمئی بادلوں سے بھرا آسمان قریباً ایک جیسے ہی ہیں۔

یہاں 17 اور 15 سال کی ان دلِت بہنوں کا خاندان بیٹھا ہے جن کی زندگیاں بے رحمی سے ختم کر دی گئیں۔ انھیں گنّے کے اس کھیت میں ریپ کے بعد گلا گھونٹ کر مار دیا گیا جو ان کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔

ان کی والدہ موٹر سائیکل پر سوار تین آدمیوں کے ہاتھوں بدھ کی شام اپنی بیٹیوں کے اغوا کی واحد گواہ ہیں۔ وہ چار پائی پر بیٹھی ہیں اور ان کے گرد رشتہ دار خواتین موجود ہیں۔

انھیں تسلی دینا ممکن نہیں۔

وہ پوچھتی ہیں ’میری بیٹیاں چلی گئیں۔ میں اب کیسے ز ندہ رہوں گی؟‘

ان کے گالوں پر آنسو بہہ رہے تھے۔ اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’وہ یہاں رہتی تھیں۔‘

ایک منٹ بعد ان کا دکھ غصے میں ڈھل گیا۔ ان کا کہنا تھا ’میں ان آدمیوں کو پھانسی پر لٹکا دیکھنا چاہتی ہوں، جس طرح انھوں نے میری بیٹیوں کو پھانسی پر لٹکایا۔‘

لڑکیوں کے ریپ اور قتل کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک شخص ان کا ہمسایہ ہے جبکہ دیگر پانچ قریبی گاؤں کے مسلمان مرد ہیں۔

دوہرے قتل کے اس واقعے نے انڈیا میں آٹھ کروڑ دلِت خواتین کو درپیش جنسی تشدد کے مسئلہ کو اجاگر کیا ہے، دلِت برادری انڈیا میں ذات پات کے نظام سے سب سے نچلے درجے پر آتی ہے۔

ناقدین کہتے ہیں کہ انڈیا میں ذات پات کے تحت جنسی تشدد کی وجہ حکومت کی ناکامی ہے، پولیس شکایت درج کرنے میں سستی کرتی ہے اور جب یہ کر لیتے ہیں تب بھی یہ شک کرتے ہیں کہ آیا یہ ریپ تھا بھی یا نہیں۔ ماضی میں حکام مجرموں کو تحفظ دیتے آئے ہیں۔

اس بار بھی پولیس کی تفتیش نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے اور یہ روّیہ مقامی لوگوں اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کی وجہ بنا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان بہنوں کا ان دو مردوں کے ساتھ تعلق تھا جنھوں نے لڑکیوں کو قتل کیا کیونکہ وہ ان پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

لیکن خاندان اور رشتہ داروں نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔

بڑی بیٹی نے اپنی ماں کی خرابی صحت کی وجہ سے گھر کی دیکھ بھال کے لیے سکول چھوڑ دیا تھا۔

ان کی والدہ کہتی ہیں ’وہ کھانا پکاتی، صفائی کرتی اور سارے کام کرتی اور میری دیکھ بھال کرتی۔‘ ان کی چھ ماہ قبل سرجری ہوئی تھی۔

چھوٹی بیٹی ’پڑھاکو‘ تھی جو قریبی قصبے کے ایک سکول میں دسویں جماعت میں پڑھتی تھی۔

ان کے والد 250 روپے یومیہ کمانے والے ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’وہ بہت زیادہ پڑھنا چاہتی تھی، میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ میں اسے ہائی سکول مکمل کرواؤں گا۔‘

ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے کے باوجود ان بہنوں کے پاس بہت کم مواقع تھے تاہم ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں بہت باصلاحیت اور خواب دیکھنے والی تھیں۔

قتل ہونے والی 17 سالہ لڑکی کے پاس کپڑے سلائی کرنے کا ہنر تھا۔ ان کے بڑے بھائی نے بتایا کہ وہ اسے قریبی گاؤں میں لے جاتے تھے جہاں انھوں نے چار ماہ کے عرصے میں سلائی کرنا سیکھی۔

وہ خود پہلے ہماچل پردیش اور پھر دہلی میں کام کرنے گئے تو مارچ میں ہولی کے تہوار پر وہ بہن کے لیے سلائی مشین لائے۔

ان کی والدہ نے اپنا گلابی بلاؤز دکھاتے ہوئے کہا کہ ’یہ میری بیٹی نے میرے لیے بنایا تھا۔‘

15 سالہ ایک بہن کو فن سے دلچسپی تھی۔ ان کی والدہ نے اپنے بیٹی کی ڈرائنگ بُک کے صفحے پلٹتے ہوئے بتایا۔

ان بہنوں کی چند ہی تصویریں ہیں۔ ان کےخاندان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موبائل فون نہیں لیکن انھوں نے 15 سالہ مقتولہ بہن کی ایک پاسورٹ سائز تصویر دکھائی۔

تصویر میں وہ سفید پس منظر کے سامنے بالوں کی دو چوٹیاں بنائے کھڑی ہے اور اُن کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ ہے۔

اس کی خالہ کا کہنا تھا ’وہ بہت پُرجوش تھی۔ وہ پڑھ لکھ کر کام کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنا بیوٹی پارلر کھولنا چاہتی تھی۔‘

ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ ’اب وہ خواب ہمیشہ کے لیے کھو گئے ہیں۔‘

انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں جہاں 20 کروڑ افراد رہتے ہیں خواتین کے خلاف جرائم بہت طویل عرصے سے جاری ہیں۔ یہاں غربا کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور یہی غریب نچلی ذات کی خواتین ہیں جو سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لکھم پور میں ان کے بھائی اپنی بہنوں سے آخری ملاقات کو یاد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے انھیں اگست میں راکھی کے تہوار پر دیکھا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے یہ تہوار بہت خوش باش اور قہقہوں میں گزارا۔

وہ کہتے ہیں ’ہم سب بہت خوش تھے، ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے گاؤں میں ایسا کچھ ہو گا۔ میری بہنوں نے بڑی محفوظ زندگی گزاری تھی۔ وہ کبھی کہیں اکیلے نہیں گئی تھیں۔‘

’اگر یہ ہمارے ساتھ ہو سکتا ہے تو یہ کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے۔‘