برصغیر کی تقسیم: نئی نسل نے اپنے بزرگوں کے صدمات سےکیا سیکھا؟

،تصویر کا ذریعہCourtesy Sameera Chauhan
- مصنف, شرلن مولن
- عہدہ, بی بی سی نیوز ، ممبئی
سمیرا چوہان کی عمر 10 سال تھی جب انھیں پتا چلا کہ دو پنجاب ہیں ایک انڈیا میں اور دوسرا پاکستان میں۔
انھیں بتایا گیا کہ ان کی دادی پنجاب کے اُس حصے میں پلی بڑھی ہیں جو 1947 میں تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں چلا گیا۔ لاکھوں دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی اس واقعے کے بعد بھڑکنے والے تشدد سے بچنے کے لیے بھاگ گئیں۔
انگریزوں نے جب انڈیا چھوڑا تو انھوں نے ملک کو دو آزاد اقوام انڈیا اور پاکستان میں تقسیم کردیا۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، اور مذہبی تشدد نے لاکھوں افراد کی جان لی۔
اگرچہ سمیرا چوہان کی نسل تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے دوسری نسل ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کی دادی کی کہانیوں نے اس صدمے کو زندہ کردیا۔ اس سے انھیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملی کہ ان کی دادی کیوں ایک کم گو انسان تھیں جو ’مسلسل پریشانی کی حالت‘ میں رہتی تھیں۔
وہ اکیلی نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں انڈین اور پاکستانی نسل کے بہت سے نوجوان اپنے خاندانوں پر تقسیم کے نشانات کا حساب لگا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے کہانیاں شیئر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پراجیکٹس شروع کیے ہیں، جب کہ کچھ لوگوں کو خاندان کے گمشدہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔
اس واقعے کے 75 سال بعد، بی بی سی نے کچھ ایسے نوجوانوں سے بات کی جن کے دادا دادی نے برصغیر کی تقسیم کا دور دیکھا تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ اس نے ان کی زندگیوں پر کیا اثر ڈالا ہے۔
’اس نے مجھے انھیں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد کی‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Devika Arora
دیویکا اروڑہ 26 سال کی ہیں، وہ اپنے دادا کو یاد کرتی ہیں، جن کی پچھلے سال وفات ہو گئی۔ ’پیسے کے معاملے میں محتاط رہتے تھے۔ وہ ہمیشہ کنٹرول میں رہنا چاہتے تھے، ایک ایسی خواہش جو شدید اور تقریباً ضدی آزادی کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔
’وہ مدد کے لیے اپنے بچوں یا پوتے پوتیوں میں سے کسی پر انحصار نہیں کرتے تھے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دیویکا اروڑہ کو تقسیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے سننے کے بعد ہی ان کا رویہ سمجھ میں آنے لگا۔
’تقسیم کے دوران، انھوں نے اپنی زندگی کا اختیار راتوں رات کھو دینے کا تجربہ کیا۔ انھوں نے اپنی باقی زندگی ایسا گزاری کہ وہ اس پر کبھی دوبارہ اختیار نہ گنوائیں۔‘
دیویکا بتاتی ہیں کہ ’وہ مجھے بتاتے کہ انھوں نے کس طرح اپنی ماں اور چار بہنوں کو کنویں کے اندر چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا، جنھیں پھر کمیونٹی کے افراد نے کمبل سے ڈھانپ کر آگ لگا دی تھی۔ انھوں نے یہ کام خود کو ہجوم کے ہاتھوں ریپ ہونے سے بچنے کے لیے کیا۔‘
اس وقت وہ نوجوان تھے جب انھوں نے پاکستان کے شہر ملتان سے انڈیا تک کا سفر اکیلے طے کیا۔ وہ صرف 16 سال کے تھے جب وہ دہلی پہنچے ان کے پاس جسم پر پہنے کپڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔
’ان کی خاموشی بولنے لگی تھی‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Rupy C Tut
روپی سی ٹوٹ کی عمر 37 سال ہے۔ وہ اپنے دادا سے تقسیم کے بارے میں کہانیاں سنتے ہوئے بڑی ہوئی ہیں۔ روپی کے دادا اور ان کا خاندان اس وقت پاکستان سے انڈیا آیا جب ایک خیر خواہ نے انھیں خبردار کیا کہ وہ ’کل مارے جائیں گے۔‘
ان کی دادی نے اپنے تجربات کے بارے میں شاذونادر ہی بات کی۔ ’چند بار انھوں نے ذکر کیا کیا، یہ ان مادی املاک کے بارے میں تھا جو انھوں نے کھو دیں۔ لیکن وہ بہت مدبر خاتون تھیں جو ہمیشہ زندگی سے مطمئن نظر آتی تھیں۔‘
لیکن روپی کو یاد ہے کہ ان کی دادی اکثر بیمار ہو جاتی تھیں۔ ’ان کی ٹانگوں میں مسلسل درد رہتا تھا اور بعد میں انھیں متعدد بار فالج ہوا۔ جیسے جیسے ان کی صحت خراب ہوتی گئی، میں نے محسوس کیا کہ ہمارے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان سے بات کرنا مشکل ہو گیا۔‘
برسوں بعد خاندان کے ایک اور فرد کے ذریعے انھیں اپنی دادی کے بارے میں دل دہلا دینے والی بات پتا چلی۔
’ان کا نوزائیدہ بچہ یا تو پاکستان سے انڈیا کے سفر کے دوران یا کسی پناہ گزین کیمپ میں مر گیا تھا۔ لیکن انھوں نے کبھی بھی بچے کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی، یا اس نقصان سے جو صدمے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ انھوں نے اپنی بیٹیوں کو بھی نہیں بتایا۔‘
روپی کا خیال ہے کہ اس المناک نقصان نے ’ان کے جسم کو نقصان پہنچایا‘۔
اور پھر یہی نقصان تھا جو انھیں اپنی دادی کے قریب لایا۔ ’میں نے حال ہی میں اسقاط حمل کے باعث ایک بچہ کھو دیا، لہٰذا میں نے ان کا درد محسوس کیا، حالانکہ انھوں نے اس کے بارے میں کبھی بات نہیں کی تھی۔‘
روپی اس وقت سان فرانسسکو میں ایک بصری آرٹسٹ کے طور پر کام کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ ان کی پینٹنگز میں سے اکثر تقسیم سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہیں۔
یہ انڈین تارکین وطن کی پہلی نسل اور تقسیم دیکھنے والی دوسری نسل کے احساسات کی ترجمان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’میں نے انھیں بالکل نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Kalsoom Lakhani
پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش میں پلنے والی 39 سالہ کلثوم لاکھانی کہتی ہیں کہ وہ اپنی دادی کو ہمیشہ ایک ’محبت کرنے والی شخصیت کے طور پر جانتی تھیں جو جب بھی میں ملنے جاتی تو میری جیب میں ٹافی ڈال دیتیں۔‘
لیکن انھوں نے اپنے خاندان کے افراد سے ان کے بارے میں دلچسپ کہانیاں بھی سنی تھیں۔ ان امدادی کاموں کے بارے میں جو انھوں نے تقسیم کے بعد پاکستان میں کیے تھے اور بعد میں سنہ 1971 میں جنگ کے دوران۔
اپنی 20 کی دہائی میں کلثوم لاکھانی امریکہ چلی گئی تھیں، وہ اپنی دادی کی کہانیوں کو دستاویز کرنے کے لیے بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ واپس گئیں۔
لاکھانی کہتی ہیں ’انھوں نے مجھے پاکستان ویمن نیشنل گارڈ (PWNG) میں گزارے اپنے وقت کے بارے میں بتایا اور بتایا کہ وہ اس کی پہلی کمانڈروں میں سے ایک تھیں۔‘
یہ ایک رضاکار تنظیم تھی جسے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے قائم کیا تھا۔ اس کے اراکین نے ابتدائی طبی امداد کا انتظام کیا اور لوگوں خصوصاً خواتین کو کھانا اور کپڑے تقسیم کیے جو تقسیم کے باعث بے گھر ہو گئے تھے۔
’انھوں نے وہاں رائفل چلانا سیکھی اور 1971 میں، وہ اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے اپنے بستر کے نیچے رائفل رکھ کر سوتیں۔‘
جتنا زیادہ وہ ان سے بات کرتی تھیں، اتنا ہی انھیں ان میں ایک ایسی خاتون نظر آتیں جنھوں نے مشکلات کے باوجود بےخوف ہوکر اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کا انتخاب کیا۔‘
’ہماری گفتگو ہمیں اور بھی قریب لائی اور آج میں انھیں اپنی زندگی کی سب سے متاثر کن شخصیت سمجھتی ہوں۔‘









