پیغمبر اسلام کے خلاف تبصروں کو نمایاں کرنے والے محمد زبیر کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبات کیوں؟

انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق ارکان کی طرف سے پیغمبر اسلام پر کیے گئے تبصروں سے متعلق سفارتی بحران پیدا ہونے کے بعد اب ہندو دائیں بازو کے حامی انڈین صحافی محمد زبیر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ محمد زبیر بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے کیے گئے اِن تبصروں کو سوشل میڈیا پر نمایاں کرنے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھے۔

سابق ٹیلی کام انجینیئر محمد زبیر فیکٹ چیک ویب سائیٹ ’الٹ نیوز‘ کے شریک بانی ہیں اور کم از کم گذشتہ پانچ برسوں سے انڈیا میں جعلی خبروں یعنی فیک نیوز کو نمایاں کر رہے ہیں۔

بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے پیغمبر اسلام کے حوالے سے کیے گئے تبصرے لگ بھگ ایک ہفتے بعد سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہوئے تھے جب محمد زبیر نے انھیں ٹویٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا اور تب سے ہندو دائیں بازو کے اراکین اُن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ مطالبات بھی شد و مد سے سامنے آئے ہیں کہ زبیر کو گرفتار کیا جائے اور اُن پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں۔ یاد رہے کہ پیغمبر اسلام کے حوالے سے تبصرہ کرنے والی بے جے پی رہنما نوپور شرما نے دعویٰ کیا تھا کہ محمد زبیر کی جانب سے ٹویٹس کیے جانے کے بعد سے انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

ہندو دائیں بازو کے اراکین اور رہنماؤں کا الزام ہے کہ محمد زبیر نے بھگوان رام، ہندؤں کی مقدس کتاب رامائن اور اُن کی مذہبی علامتوں کی توہین کی ہے۔

ایک ٹویٹر صارف نے تو زبیر کے خلاف لوگوں سے مختلف ریاستوں میں مقدمات درج کرنے کی اپیل کی ہے اور اس اقدام کے عوض نقد انعامات کا اعلان کیا ہے۔

زبیر اور ان کی ویب سائٹ کے دوسرے شریک بانی پرتیک سنہا پرتیک سنہا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یہ کر رہے ہیں کیونکہ ہم جو کام کرتے ہیں اس کا اثر ہوتا ہے۔ خاص طور پر زبیر آن لائن دنیا میں کافی متحرک ہیں جس کی وجہ سے وہ زبیر کے پیچھے پڑے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان دنوں صحافت سے فیکٹ چیکنگ غائب ہو گئی ہے۔ ’اگر زیادہ تر صحافتی ادارے یہ کر رہے ہوتے تو ہم جس حالت میں ہیں اس میں نہ ہوتے اور حالات بہتر ہوتے۔ یہ صحافت کی ایک نئی صنف ہے جو پہلے انڈیا میں موجود نہیں تھی اور جس کے تحت ہم نفرت انگیز تقریر اور غلط معلومات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔‘

کیا آپ کو ڈر ہے کہ آپ یا زبیر گرفتار کیے جا سکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں پرتیک کا کہنا تھا کہ ’صرف گرفتاری کا مطالبہ کرنے سے گرفتاری نہیں ہوتی۔ یاں یقیناً تشویش کی بات ضرور ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انڈیا میں قانون کے مطابق کام نہیں ہوتا بلکہ من مانی چلتی ہے۔ لوگوں کے گھروں کو بلڈوز کیا جا رہا ہے۔ بے شک، یہ تشویشناک ہے لیکن ہم ٹیم کے تمام ارکان کو محفوظ رکھیں گے اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں جب محمد زبیر کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

رواں ماہ کے ابتدا میں ایک غیر معروف تنظیم راشٹریہ ہندو شیر سینا کے ایک رکن نے اُن کے خلاف ہندو جذبات کو مشتعل کرنے کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ محمد زبیر نے ایک ٹویٹ میں ایسے ہندو مذہبی رہنماؤں کو ’نفرت پھیلانے والا‘ کہا تھا جنھوں نے حالیہ مہینوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیے تھے۔

27 مئی 2022 کو کی گئی اس ٹویٹ میں محمد زبیر نے لکھا تھا کہ ’ہمیں یتی نرشنگھنند سرسوتی یا مہنت بجرنگ منی یا آنند سوروپ جیسے نفرت پھیلانے والوں کی کیا ضرورت ہے جو کہ کسی کمیونٹی یا مذہب کے خلاف بولنے کے لیے دھرم سنسد کا اہتمام کریں جب ہمارے پاس پہلے ہی ایسے اینکر موجود ہیں جو نیوز سٹوڈیو سے بہت بہتر کام کر سکتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

زبیر نے اس ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن 13 جون کو عدالت نے اُن کی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ اس کیس میں مزید تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد زبیر کے خلاف اُن کے کام سے متعلق کم از کم پانچ ایسے ہی مقدمات انڈیا کے مختلف تھانوں میں درج ہیں۔

گذشتہ سال زبیر، صحافی رانا ایوب، نیوز پورٹل دی وائر اور سوشل میڈیا پورٹل ٹویٹر ان افراد اور اداروں میں شامل تھے جن پر یو پی پولیس نے ’ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دشمنی‘ پیدا کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ زبیر سمیت دوسرے ملزمان نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک داڑھی والے بزرگ کو ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس نے مقدمہ میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک ذاتی معاملہ تھا۔

’ڈیجی پب‘ نامی ڈیجیٹل نیوز تنظیموں کی ایک جماعت نے ایک بیان میں زبیر کے خلاف حالیہ مقدمے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے جب نفرت انگیز تقریر اور تشدد کے لیے سرگرم افراد پر سزا نہ ہو۔ حالانکہ جب صحافی انصاف پسند رپورٹنگ کرتے ہیں تو ان پر جابرانہ قوانین کے تحت مقدمہ کر دیا جاتا ہے۔‘

اس مقدمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے الٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا نے تین جون کو انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ یہ ’سلیکٹیو ٹارگٹنگ‘ کا ایک واضح ثبوت ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’متعدد میڈیا اداروں نے تینوں متعلقہ افراد کو نفرت پھیلانے والا کہا ہے۔۔۔ الٹ نیوز جو کام نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کے خلاف کرتا ہے وہ بہت سے لوگوں کو پریشان کرتا ہے اور اسی لیے زبیر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ آلٹ نیوز کے شریک بانی ہیں۔‘

یہ ویب سائیٹ انفرادی عطیات سے چلتی ہے۔

اگرچہ یہ ویب سائٹ حکمران جماعت بی جے پی اور اس سے وابستہ افراد کے ذریعے نشر کیے ہوئے اطلاعات پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے لیکن غلط معلومات پھیلانے پر مخالف جماعتیں یا رہنماوں کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے۔

جب نوپور شرما سے متعلق تنازعہ گرم تھا، زبیر نے ترجمانوں کی ایک فہرست تیار کی جو کہ ٹوپی اور داڑھی میں ٹی وی مباحثوں میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ہندو مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تبصرے کرتے ہیں جو کہ ان کے مطابق معاشرے کی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اسی سے متعلق زی نیوز اور اس کے اینکر سدھیر چودھری کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ ’زی نیوز اور سدھیر چودھری الیاس شرف الدین جیسے لوگوں کو کیوں مدعو کر رہے ہیں جو ایک لائیو ٹی وی پر ہندو مذہب کی توہین کرتے ہیں اور ہندو عقائد پر ہنستے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں لاکھوں لوگ بحث دیکھ رہے ہیں۔ یہ خود ساختہ ’اسلامی سکالر‘ گودی میڈیا پر خبری مباحثوں میں باقاعدگی سے دیکھا جاتا ہے۔‘

حالانکہ ہندو دائیں بازو نے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، بہت سے لوگ ان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔

شاعر اور صحافی کوشک راج نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندو دائیں بازو کے رکن زبیر کو کیوں گرفتار کروانا چاہتے ہیں، لیکن شرف الدین کو نہیں جس نے لائیو ٹی وی پر ہندو دیوتاؤں کو گالی دی تھی؟‘

وہ مزید کہتے ہیں ’انہیں گودی میڈیا کی طرف سے مدعو کیا جاتا رہے گا کیونکہ یہ پراپیگنڈے کے لیے مناسب ہے۔‘

ریڈیو جاکی صائمہ نے کہا کہ ’وہ غیر متزلزل اور فخر کے ساتھ زبیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ زبیر ایک حقیقی وطن پرست ہے۔‘

روچا چٹنیس نے زبیر کے حوالے سے ٹویٹر پر لکھا کہ ’پراپیگنڈے، جھوٹ اور غلط معلومات کو بے نقاب کرنا جرم نہیں ہے۔‘

زبیر کی حمایت میں صحافی مینا کوتوال نے مشہور کارٹونسٹ آر کے لکشمن کا بنایا ہوا ایک کارٹون شیئر کیا جس میں دکھایا گیا ہے ایک پولیس اہلکار ایک شخص کو گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ’یقیناً آپ افواہیں نہیں پھیلا رہے تھے، الزام یہ ہے کہ آپ سچ پھیلا رہے تھے۔‘